پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سات مطالبات عوامی سطح پر پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ “دوسرے درجے کے شہری” جیسا سلوک کیا گیا اور ریاست کی جانب سے اس جماعت کے خلاف امتیازی رویہ اپنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات سیاسی استحکام، آئین اور قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔
مطالبات کا مکمل خاکہ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق پی ٹی آئی کے سات مطالبات درج ذیل ہیں:
- پہلا مطالبہ: وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں قائد حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوں تاکہ اہم سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر بات چیت کی جا سکے، اور دو ماہ کے اندر اس عمل میں بامعنی پیش رفت کو یقینی بنایا جائے۔
- دوسرا مطالبہ: حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو سیاسی مسائل اور اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے اور ایک ماہ کے اندر قابل عمل سفارشات پیش کرے۔
- تیسرا مطالبہ: پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حقوق سے متعلق ہے۔ مطالبہ ہے کہ دونوں کو جیل قوانین اور آئین کے تحت تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کیے جائیں، اور جہاں قانون اجازت دے وہاں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی رائے کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
- چوتھا مطالبہ: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قواعد کے مطابق اپنے اہل خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے، البتہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان ملاقاتوں کو قانون کے تحت ممنوع مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
- پانچواں مطالبہ: عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر قیدیوں بشمول خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں سے متعلق قانونی درخواستیں قانون کے مطابق دس دن کے اندر سماعت یا نمٹائی جائیں۔ اس کے ساتھ خواتین سیاسی قیدیوں کی انسانی بنیادوں پر جلد رہائی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
- چھٹا مطالبہ: خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق ہے۔ مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رہے، اور واضح و قابل عمل حکمت عملی وضع کرنے کے لیے 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس طلب کیا جائے۔
- ساتواں مطالبہ: پی ٹی آئی نے اپنے جاری لانگ مارچ کی منسوخی کو وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات کے نفاذ سے متعلق تحریری یقین دہانی سے مشروط کر دیا ہے۔
حکومت کی عدم پیروی کی صورت میں احتجاج کا حق محفوظ
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی تو پی ٹی آئی پرامن اور قانونی احتجاج جاری رکھنے کا اپنا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مذاکرات کے عمل میں پیش رفت کا انحصار وفاقی حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی اور عملی اقدامات پر ہے۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کی اہمیت مسلمہ سمجھی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان مطالبات کی منظوری یا عدم منظوری آئندہ سیاسی منظر نامے کا تعین کرے گی۔
