ٹیکنالوجی اور جدید سرویلنس کے ذریعے 500 سے زائد ڈاکو ہتھیار ڈالنے پر مجبور
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ راجن پور اور کچے کے علاقوں کو ڈاکوؤں سے 100 فیصد صاف کر لیا گیا ہے۔ کچا میں آپریشن کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر ایک ریاست بنا رکھی تھی جہاں خوف و ہراس کا ماحول تھا اور لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کیا جاتا تھا۔
فیصلہ کن آپریشن میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال
مریم نواز نے بتایا کہ “ہمیں بتایا گیا تھا کہ کچے میں آپریشن بہت مشکل ہے، لیکن ہم نے رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن کیا۔ پاک فوج نے آپریشن کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی اور کچے کے علاقوں میں ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایک ڈاکو کو ٹریک کیا گیا۔”
ڈرون اور انسانی انٹیلی جنس کا کامیاب استعمال
وزیر اعلیٰ پنجاب نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے دوران جدید ترین سرویلنس اور ہیومن انٹیلی جنس سسٹم کا استعمال کیا گیا۔ ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے سندھ پولیس اور حکومت سندھ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے آپریشن میں بھرپور ساتھ دیا۔
ریاستی رٹ بحال، کوئی جانی نقصان نہیں
مریم نواز نے زور دے کر کہا کہ “حکومت کی رٹ ان علاقوں میں بحال ہو گئی ہے اور اس آپریشن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ خوف کے علاقے سے قانون کی عملداری کا علاقہ بن گیا ہے۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے اور کچے کے ڈاکوؤں کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔”
500 سے زائد ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے
وزیر اعلیٰ پنجاب کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں 500 سے زائد ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “الحمدللہ پنجاب اب محفوظ ہے۔” یہ آپریشن ڈاکوؤں کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی کا استعمال کیا گیا۔
