روس میں اتوار کے روز منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی جماعت “یونائیٹڈ رشیا” نے توقع کے مطابق بھاری اکثریت حاصل کر لی، تاہم اس انتخابی عمل کو یوکرینی ڈرون حملوں اور بڑے پیمانے پر سائبر حملوں نے شدید متاثر کیا۔ ماسکو نے ان حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
انتخابی نتائج: یونائیٹڈ رشیا کی بھاری جیت
روسی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، تین چوتھائی ووٹوں کی گنتی کے بعد سرکاری نتائج میں یونائیٹڈ رشیا نے 57.5 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی 14 فیصد اور قوم پرست جماعت ایل ڈی پی آر 8.7 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہی۔
یہ انتخابات 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے، جن میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں “دوما” کی نشستیں دوبارہ بھری گئیں۔ یہ ووٹنگ روس کے زیر قبضہ اور الحاق شدہ یوکرینی علاقوں میں بھی کرائی گئی۔
ٹاس نیوز ایجنسی کے تخمینے کے مطابق، حکمران جماعت دوما میں دو تہائی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے، جس سے اسے آئین میں ترمیم کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یونائیٹڈ رشیا نے 2021 کے انتخابات میں حاصل کردہ 49.8 فیصد ووٹوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔
اپوزیشن کی غیر موجودگی اور تنقید
ان انتخابات میں جنگ کے خلاف کوئی بھی جماعت حصہ لینے کی مجاز نہیں تھی۔ صرف وہی جماعتیں میدان میں اتریں جو کسی نہ کسی سطح پر پیوٹن اور یوکرین میں جاری جنگ کی حامی ہیں۔ جنگ کی کھلی مخالفت کرنے والی واحد جماعت “یابلوکو” کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تھا۔
یابلوکو کے سربراہ نکولائی ریباکوف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے طنز کیا: “اگر بیلٹ پیپر پر دس جماعتیں ہوں اور وہ سب پیوٹن کی پالیسی کی حامی ہوں، تو اس کے علاوہ اور کیا نتیجہ نکل سکتا تھا؟”
سابق صدر اور یونائیٹڈ رشیا کے موجودہ سربراہ دمتری میدویدیف نے ابتدائی نتائج کو حکومت پر اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ “صدر کی طے شدہ پالیسی کی حمایت” جاری رکھیں گے اور ملک کو “فتح کے قریب” لے کر جائیں گے۔
انتخابی کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے بتایا کہ حتمی نتائج پیر کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی ووٹنگ کی شرح کو بھی سراہا، جو 56.7 فیصد رہی۔
ماسکو پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ
اگرچہ یوکرین میں جاری جنگ کو ووٹنگ کے ذریعے چیلنج کرنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا، لیکن یہ تنازع انتخابی عمل میں براہ راست مداخلت کرتا رہا۔ اتوار کے روز ووٹنگ کے آخری مرحلے کے دوران یوکرین کی جانب سے ایک ہزار سے زائد ڈرون پر مشتمل حملہ کیا گیا، جس میں روسی حکام کے مطابق دارالحکومت کے نواحی علاقے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق شہر میں ایک اہم آئل ریفائنری کو بھی نقصان پہنچا، اور انہوں نے اس حملے کو “انتخابات میں خلل ڈالنے کے لیے واضح طور پر منصوبہ بند کارروائی” قرار دیا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین کے حملوں نے “ماسکو کے علاقے میں بہت اہم اثر ڈالا ہے”۔
اسی طرح روس کے زیر قبضہ جنوبی یوکرین کے علاقے خیرسون میں ایک یوکرینی ڈرون نے بس کو نشانہ بنایا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے، جن میں انتخابی کمیشن کی ایک خاتون ملازمہ بھی شامل تھی۔
شام کے وقت روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ ماسکو ان حملوں کے جواب میں “اعلیٰ درستگی والے ہتھیاروں سے کیف میں فوجی اہداف کے خلاف” اپنے حملے جاری اور مزید تیز کرے گا۔
یوکرین سے سائبر حملے
ادھر روسی انتخابی کمیشن نے اعلان کیا کہ اس نے “ایک ہزار سے زائد” ایسی سائبر حملوں کی لہریں دیکھیں جو الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کو درخواستوں سے بھرنے کے لیے کی گئیں، نیز “روس کے مجموعی ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر” پر بھی حملے کیے گئے۔
ایلا پامفیلووا نے کہا: “یہ حملے انتہائی پیشہ ور اور منظم گروہوں نے مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرتے ہوئے کیے۔ ان میں یوکرینی مداخلت کے واضح آثار موجود ہیں۔”
یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب روس مغربی اقتصادی پابندیوں، یوکرینی حملوں، پٹرول کی قلت اور کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی محدود سہولیات جیسے مسائل سے دوچار ہے، جس نے سماجی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
