یوکرین کے دارالحکومت کیف میں روسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کے مطابق ہفتے کے روز شہر کے شمالی پل کو روسی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے چند روز قبل جنوبی پل پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔
میئر کا بیان
کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ شمالی پل کو نقصان پہنچا ہے اور ہنگامی خدمات موقع پر روانہ کر دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق پل کی سڑک کی سطح اور ٹرالی بسوں کی کیبلز متاثر ہوئی ہیں، جبکہ دریائے ڈنیپر کے بائیں کنارے سے دائیں کنارے کی طرف جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
جنوبی پل پر بھی حملہ
واضح رہے کہ جمعرات اور جمعہ کے روز جنوبی پل کو روسی ڈرونز نے نشانہ بنایا تھا، جس کے باعث اسے بھی ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا اور شہر میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ کیف شہر دریائے ڈنیپر کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم ہے، اور پلوں کی بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دیگر پلوں پر پابندیاں
بلدیاتی حکام نے جمعہ کے روز پاٹن اور میٹرو نامی دو دیگر اہم پلوں پر بھی ٹریفک کو محدود کر دیا، اگرچہ ان ڈھانچوں پر کسی حملے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ خبر رساں ایجنسی کے نامہ نگاروں نے صبح کے وقت دارنیتسکی پل پر بھی عارضی پابندیاں دیکھیں۔
پلوں کی اہمیت
سن 2022 میں روسی حملے کے آغاز سے ہی کیف کو اپنے آٹھ بڑے سڑک اور ریلوے پلوں پر حملوں کا خدشہ لاحق ہے، کیونکہ یہ ڈھانچے دارالحکومت کی لاجسٹکس کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں۔ ان پلوں کی بندش سے امدادی سامان کی ترسیل اور عوام کی روزمرہ آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔
روسی افواج کی جانب سے یوکرینی بنیادی ڈھانچے پر مسلسل بمباری جاری ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
