صنعا: یمن میں سعودی عرب کی قیادت والے فوجی اتحاد نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ یمنی حکومت کی جانب سے ایران نواز حوثی جنگجوؤں کے خلاف شروع کیے گئے حملے میں شامل ہو گیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ “آج صبح سویرے 100 جنگی طیاروں نے آپریشن ‘یمن کا طلوع’ میں حصہ لیا۔”
فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری
جنرل ترکی المالکی کے مطابق، اتحاد زمینی افواج کو “24 گھنٹے فضائی مدد” فراہم کر رہا ہے اور آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک “324 اہم اہداف کو تباہ” کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اتحاد “باب المندب آبنائے کی فضائی حفاظت” بھی یقینی بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے، اور “متحرک اہداف” کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
حکومت کی جانب سے بڑے حملے کا اعلان
اتوار کو حوثیوں نے تعز سے عدن جانے والے ایک اہم راستے کو کاٹ دیا تھا۔ تعز جنوب مغربی یمن کا بڑا شہر ہے جس کا حوثیوں نے محاصرہ کر رکھا ہے، جبکہ عدن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت قائم ہے۔ یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اس کے فوراً بعد پوری سرزمین کو حوثیوں سے واپس لینے کے لیے ایک بڑے حملے کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے
واضح رہے کہ ستمبر میں حوثی تحریک نے یمنی حکومتی افواج اور ان کے سعودی اتحادی کو بڑے جھٹکے دیے تھے اور خاص طور پر باب المندب آبنائے پر اپna قبضہ مضبوط کیا تھا۔ حوثی یمنی حکومت کے اتحادی سعودی عرب پر بھی باقاعدگی سے حملے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سعودی مملکت پر متعدد فضائی حملے کیے اور اس کے بحری بیڑے کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
علاقائی اور بین الاقوامی اثرات
باب المندب آبنائے عالمی تجارت کے لیے ایک اسٹریٹجک گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ اس آبنائے پر حوثیوں کا کنٹرول بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کی اس نئی کارروائی سے یمن کی خانہ جنگی میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
