مارسیل: مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر سورایا ریفی جمعہ کی رات اپنے گھر پر ایک شدید حملے کا شکار ہوئیں۔ پولیس کو دی گئی رپورٹ کے مطابق، تین افراد نے ان کے گھر میں گھس کر ان پر حملہ کیا۔ اس واقعے کے دوران انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ زیادتی کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
جمعہ کی شام تقریباً 7:30 بجے، سورایا ریفی جو کہ خود کو ایک ماڈل انفلوئنسر کہتی ہیں، دوستوں کے ساتھ کشتی کی سیر کے بعد اپنے گھر واپس آئیں۔ گھر آ کر انہوں نے نہانا شروع کیا اور پھر اپنے سوشل میڈیا فالوورز کے سوالات کے جوابات دینے میں مصروف ہو گئیں۔ اسی دوران ان کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ جب انہوں نے دروازے کے سوراخ سے باہر دیکھا تو انہیں کوئی نظر نہیں آیا، سوائے ایک آدمی کے جو کہہ رہا تھا کہ اس کی چابیاں گم ہو گئی ہیں۔
جب وہ واپس اندر جا رہی تھیں تو دروازہ بند کرتے ہی ان پر زور دار حملہ کیا گیا۔ حملہ آور نے ان کے ناک پر مکا مارا جس سے وہ زمین پر گر گئیں اور خون بہنے لگا۔ اسی دوران دو مزید افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے، انہیں چپ رہنے اور حرکت نہ کرنے کا حکم دیا۔
حملہ آوروں نے انہیں باندھ دیا اور ان کے منہ پر ٹیپ چپکایا۔ پھر ان میں سے ایک نے ان پر چاقو نکالا اور ان سے 50,000 یورو کا مطالبہ کیا۔ سورایا نے انکار کرتے ہوئے اپنی گاڑی کی چابیاں دیں، جس میں ان کا پرس موجود تھا۔
اس دوران ان پر بلیچ اور دیگر کیمیکل چھڑک دیے گئے۔ جب حملہ آور وہاں سے چلے گئے تو سورایا نے ان کی مدد سے خود کو آزاد کر لیا اور مدد کے لیے اپنے پڑوسی کے پاس گئیں۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کو رات 9 بجے کے قریب اطلاع دی گئی۔ اسپتال میں ڈاکٹروں نے ان کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے طبی معائنہ کیا۔
وکیل نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کریں۔ سورایا کے وکیل نے بتایا کہ وہ پہلے بھی ایسی دھمکیوں کا شکار رہی ہیں اور اس سلسلے میں حکام کو آگاہ کر چکی ہیں، لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ حملہ آوروں نے سورایا کی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر حملہ کیا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشہور شخصیات کو سوشل میڈیا پر اپنی حفاظت کے لیے کتنی چوکسی اختیار کرنی پڑتی ہے۔ سورایا ریفی کی اس وقت حالت نازک ہے، لیکن وہ اپنے فالوورز کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی صحت کے بارے میں آگاہ کرتی رہیں گی۔

