اسپین میں ماحولیاتی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف (ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر) کی ایک نئی تحقیق کے مطابق، تقریباً 80 ہزار ہیکٹر رقبہ غیر قانونی طور پر نکالے گئے پانی سے سیراب کیا جا رہا ہے۔ یہ رقبہ میڈرڈ شہر یا منورکا جزیرے کے کل رقبے سے بھی بڑا ہے۔
یہ تحقیق چھ ایسے حساس علاقوں میں کی گئی جہاں پانی کی چوری کے واقعات عام ہیں۔ ان علاقوں میں بالائی گواڈیانا، المونٹے-ماریسماس (دونانا)، لاس ایرینالیس کا آبی ذخیرہ، بازا، کیمپو ڈی کارٹاگینا اور جنوب مشرقی علاقے شامل ہیں۔
بالائی گواڈیانا: پانی کی چوری کا مرکز
رپورٹ کے مطابق، بالائی گواڈیانا کو “اسپین میں پانی کی چوری کا مرکز” قرار دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں 39 ہزار ہیکٹر اراضی غیر قانونی طور پر نکالے گئے پانی سے سیراب ہو رہی ہے۔ یہاں لاس ٹیبلاس ڈی دایمیل اور لگوناس ڈی روئیڈیرا جیسے اہم ماحولیاتی مقامات واقع ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کی واٹر پروگرام کی سربراہ ٹریسا گِل کا کہنا ہے کہ “یہ واقعات الگ تھلگ نہیں ہیں، بلکہ اسپین میں ماحولیاتی جرائم کے سب سے عام اور غیر سزا یافتہ مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔”
علاقائی تفصیلات اور مثبت پیش رفت
ڈبلیو ڈبلیو ایف نے 2021 میں بھی پانی کی غیر قانونی نکاسی پر ایک تحقیق کی تھی۔ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مار مینور اور لاس ایرینالیس کے آبی ذخیرے کے ارد گرد غیر قانونی آبپاشی میں کمی آئی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
بازا کے علاقے میں 62 فیصد آبپاشی غیر قانونی ذرائع سے ہو رہی ہے اور پانی کے چشمے شدید حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے سوکھ رہے ہیں۔ الباسیٹے میں بھی تقریباً 11 ہزار 500 ہیکٹر رقبہ غیر قانونی آبپاشی سے سیراب ہو رہا ہے۔
مار مینور میں بہتری
2016، 2019 اور 2021 میں طحالب کے پھیلاؤ کے واقعات کے بعد، حکام نے غیر قانونی کاشتکاری کے خلاف سخت اقدامات شروع کیے۔ 2020 میں مار مینور قانون منظور ہوا اور 2022 میں بحالی کا فریم ورک اپنایا گیا۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تجزیے کے مطابق، 2019 سے 2024 کے درمیان غیر قانونی زیر زمین پانی نکالنے میں 65 فیصد کمی آئی ہے اور غیر قانونی آبپاشی کا رقبہ 11 ہزار سے کم ہو کر 3 ہزار 271 ہیکٹر رہ گیا ہے۔
دونانا: اسٹرابیری کی غیر قانونی کاشت میں کمی
دونانا کے علاقے میں اسٹرابیری اور چھوٹے پھلوں کی غیر قانونی کاشت میں 2023 میں کمی آئی ہے۔ تاہم، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ترجمان جوانجو کارمونا کے مطابق، “تقریباً 90 ہیکٹر رقبہ سالانہ ختم کیا جا رہا ہے، ابھی 300 ہیکٹر باقی ہیں، جسے مکمل ختم کرنے میں تقریباً چار سال لگیں گے۔”
انہوں نے بتایا کہ دیگر علاقوں میں زیتون کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو زیادہ پانی کی طلب کرتی ہے۔ تمام تجزیہ شدہ علاقوں میں روایتی بارانی زراعت سے صنعتی آبپاشی کی طرف منتقلی ہوئی ہے، جسے سرکاری سبسڈیز نے فروغ دیا۔
غیر قانونی نکاسی منافع بخش کیوں؟
کارمونا کے مطابق، پانی کی چوری کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ “معاشی طور پر منافع بخش” ہے۔ اگرچہ حکام جرمانے عائد کرتے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد میں اتنی تاخیر ہوتی ہے کہ فصلیں کٹ چکی ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “اگر کسی زیادہ پیداوار والی فصل کو ختم کرنے میں سات سال لگتے ہیں، تو جاری رکھنا زیادہ منافع بخش ہے۔ ہمیں ایسے قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے جو غیر قانونی زمینوں اور کنوؤں کی فوری اور احتیاطی بندش کو ممکن بنائے۔”
