واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک کی صحت سے متعلق تحقیقی فنڈنگ کے ایک بڑے حصے کو اپنے سیاسی تقرر کردہ عہدیداروں کے زیرِ کنٹرول لانے کے خواہاں ہیں۔ یہ اطلاع پولیٹیکو نے ہفتے کے روز دی۔
نیوز آؤٹ لیٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اپنے بجٹ ڈائریکٹر رس واؤٹ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کا مسودہ تیار کریں جس کے تحت ایک بورڈ قائم کیا جائے گا جو فیصلہ کرے گا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (NIH) کی جانب سے کون سی گرانٹس فراہم کی جائیں گی۔
بورڈ کی تشکیل اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار
رپورٹ کے مطابق اس بورڈ میں NIH کے ڈائریکٹر جے بھٹاچاریہ اور وائٹ ہاؤس آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ کے ڈائریکٹر رس واؤٹ شامل ہوں گے، اور گرانٹس کی منظوری کے حوالے سے فیصلے متفقہ طور پر کرنا لازمی ہوگا۔
اطلاع کے مطابق مجوزہ انتظام رس واؤٹ کو یہ براہِ راست کردار دے گا کہ وہ طے کریں کہ صحت تحقیقی ایجنسی کانگریس کی منظور کردہ رقم کیسے تقسیم کرے گی۔
سرکاری اداروں کا ردِ عمل
خبر رساں ادارے روئٹرز کی جانب سے معمول کے اوقاتِ کار کے بعد تبصرے کی درخواست پر آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ، وائٹ ہاؤس اور NIH کی نگرانی کرنے والے محکمہ صحت و انسانی خدمات نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
تحقیقی فنڈنگ میں کٹوتیوں پر تنقید
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت کی تحقیقی فنڈنگ میں کی گئی کٹوتیوں پر تنقید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس بڑی یونیورسٹیوں پر وفاقی اخراجات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی ان کٹوتیوں کے نتیجے میں متعدد اداروں کی گرانٹس منجمد یا منسوخ کر دی گئیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ کٹوتیاں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ حکومت صرف ٹھوس سائنس کی فنڈنگ کرے اور گزشتہ برسوں کی غلط ترجیحات کو درست کیا جائے۔
