سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹویٹر (جو اب X کے نام سے جانا جاتا ہے) سے دس ملین یورو کا ہرجانہ ملے گا۔ یہ ہرجانہ ٹرمپ کے اکاؤنٹ کی معطلی کے سبب دیا جا رہا ہے، جو جنوری 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد ہوا تھا۔ واشنگٹن میں امریکی پارلیمنٹ پر حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی ٹویٹر نے ریپبلکن رہنما کا اکاؤنٹ معطل کر دیا تھا، کیونکہ کمپنی کا خیال تھا کہ ٹرمپ نے مظاہرین کو تشدد پر اکسایا تھا۔
یہ معطلی تقریباً دو سال تک جاری رہی، جب تک کہ نومبر 2022 میں ایلون مسک کی قیادت میں ٹویٹر نے اسے بحال نہ کر دیا۔ اس معطلی کے خلاف، ٹرمپ نے ٹویٹر اور اس وقت کے سی ای او جیک ڈورسی کے خلاف قانونی کاروائی کی تھی۔ ابتدائی مراحل میں کیس مسترد ہونے کے بعد، ٹرمپ نے 2022 میں اپیل کی۔
مزید برآں، میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام، اور واٹس ایپ کی مالک ہے، نے بھی جنوری میں ٹرمپ کو پچیس ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کیا، جب اس کا فیس بک اکاؤنٹ معطل کیا گیا تھا۔ بڑے ٹیکنالوجی کمپنیوں نے پچھلے سال سے ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں، جنہوں نے اپنی تقریب حلف برداری میں کئی ٹیکنالوجی کے سربراہان کو مدعو کیا تھا۔
ایلون مسک نے اپنی ذاتی دولت سے ٹرمپ کی صدارتی مہم کے لیے 277 ملین ڈالر کا تعاون بھی کیا تھا، جس سے ان دونوں کے مابین تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔ ٹرمپ کے وکلا نے ابتدائی طور پر بغیر ہرجانے کے کیس ختم کرنے پر غور کیا، لیکن بعد میں X کے ساتھ دوستانہ تصفیہ طے کیا۔
یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ کس طرح بڑے ٹیکنالوجی ادارے اپنے سابقہ فیصلوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں اور سیاسی شخصیات کے ساتھ اپنی پوزیشن کو متوازن کر رہے ہیں۔




