گرینوبل کے حساس علاقے میں واقع ایک بار میں بدھ کی شام ہونے والے دستی بم حملے سے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس حملے میں کم از کم بارہ افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ یہ واقعہ رات آٹھ بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک نامعلوم شخص بار میں داخل ہوا اور خاموشی سے ایک دستی بم پھینک کر فرار ہوگیا۔
یہ بار “اکسہیر” کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ ویلنویو-ولج-اولمپک کے علاقے میں واقع ہے، جو گرینوبل کے جنوبی حصے میں ایک حساس علاقہ ہے۔ بار کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ یہ مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ باہر سے آنے والوں کے لیے بھی ایک مرکز ہے، خاص طور پر فٹ بال میچز دیکھنے کے لیے۔
حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بارہ ہے، جن میں سے دو کی حالت نازک ہے۔ اس دوران امدادی کارروائیوں کے لیے 80 سے زائد فائر فائٹرز کو تعینات کیا گیا۔ تاہم، حملے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے دستی بم کے علاوہ ممکنہ طور پر کلاشنکوف سے بھی مسلح تھا، لیکن اس کے استعمال کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں دہشت گردی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اس واقعے کو “بے حد تشدد کا عمل” قرار دیا گیا ہے، جسے ممکنہ طور پر ذاتی دشمنی یا جرائم پیشہ عناصر کی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
گرینوبل کے میئر ایریک پیول نے اس جرم کی شدید مذمت کی ہے اور اسے شہر میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر کا حصہ قرار دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد گرینوبل کے ہسپتال نے متاثرین کے علاج کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے کا اعلان کیا ہے اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔
حملے کے بعد علاقے میں رہنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور اس واقعے کو علاقے میں جاری منشیات کی اسمگلنگ کے ممکنہ اثرات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں علاقے کے لوگ اپنی سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
