ماسکو: یوکرین نے منگل کی شام روس کے جنوبی ساحل کے قریب ایک تیل کے ٹینکر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں زبردست آگ بھڑک اٹھی اور کالے دھوئیں کے بادل نے تفریحی شہر سوچی کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق لائبیریا کے پرچم والے ٹینکر پر “بحری ڈرونز” کے ذریعے حملہ کیا گیا، اور “بحیرہ اسود کے پانیوں میں خام تیل کھلے عام جل رہا ہے۔” وزارت نے بتایا کہ آگ کی شدت کے باعث فائر بریگیڈ عملہ جائے وقوعہ پر بروقت کارروائی نہیں کر سکا، تاہم جہاز کے عملے کے 23 افراد — جن کا تعلق بھارت سے ہے — کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
سوچی کے ساحل پر خوف و ہراس
سوچی — جس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ ہے اور جو روس کا مقبول ترین تفریحی شہر سمجھا جاتا ہے — سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر تیزی سے پھیلیں، جن میں سمندر میں نارنجی رنگ کے شعلے اور آسمان کی طرف بلند کالے دھوئیں کا ستون دیکھا جا سکتا ہے۔
شہر کے میئر نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ساحل اور ساحلوں تک رسائی کو محدود کر دیا گیا ہے۔
یوکرین کا موقف
یوکرین کا کہنا ہے کہ روسی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر اس کے حملے ماسکو کی جانب سے راتوں رات یوکرینی شہروں اور قصبوں پر کی جانے والی بمباری کا جائز بدلہ ہیں۔
دونوں فریقوں نے حالیہ ہفتوں میں حملوں کو مزید تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ روس نے کیف کے اہم پلوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور دن کے وقت ڈرون حملوں سے دارالحکومت کے قلب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے — یہ ایک نئی حکمت عملی ہے جس نے شہر کو مکمل تعطل کا شکار کر دیا ہے۔
ماضی کے حملوں کے اثرات
روس کے جنوبی علاقوں میں تیل کی تنصیبات پر یوکرین کے سابقہ حملوں کے نتیجے میں تیل کی تہہ بننا، ساحلوں کی بندش اور آسمان سے زہریلی کالی بارش کا گرنا بھی سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 میں تنازعے کے آغاز سے اب تک دونوں فریقوں نے بحیرہ اسود کے گرد تجارتی جہاز رانی کو بھاری نشانہ بنایا ہے۔ روس نے حالیہ دنوں میں یورپی یونین کے رکن رومانیہ کے ساحل کے قریب یوکرینی سامان لے جانے والے اناج کے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
