یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ کیف اور واشنگٹن دونوں روس کی جانب سے لڑی جانے والی اس “بے معنی جنگ” کو سردیوں کی آمد سے قبل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد دیا۔
ٹرمپ سے ملاقات اور سفارت کاری کے امکانات
منگل 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حاشیے پر ہونے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تناؤ میں کمی کے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ زیلنسکی کے مطابق، انہوں نے امریکی صدر کے ساتھ “ان اقدامات پر بات کی جو سفارت کاری کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔”
پیٹریاٹ میزائل کی پیداوار پر زور
یوکرینی صدر نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں یوکرین میں پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار شروع کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ میزائل یوکرین کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ صرف یہی نظام تیز رفتار اور بلند پرواز کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہیں۔
زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اگر روس مذاکرات سے انکار کرتا ہے اور اس سردیوں میں بھی یوکرینی عوام کے خلاف بیلسٹک میزائل دہشت گردی پر انحصار جاری رکھتا ہے، تو پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار ہی انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
توانائی کے شعبے پر حملے روکنے کی پیشکش
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے زیلنسکی نے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر کو یہ تجویز پیش کی ہے کہ یوکرین روسی توانائی کے ٹھکانوں پر حملے روک سکتا ہے، بشرطیکہ ماسکو بھی یوکرین پر اپنے بڑے پیمانے پر حملے بند کر دے۔
- زیلنسکی نے کہا: “ہم نے امریکی صدر کے ساتھ توانائی کی معطلی (moratorium) پر بات کی۔”
- یہ پیشکش سردیوں کے دوران توانائی کے بحران کو روکنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
- دونوں رہنماؤں نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستوں پر زور دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین کو سردیوں کے دوران روسی میزائل حملوں اور توانائی کی قلت کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ زیلنسکی کی جانب سے جنگ جلد ختم کرنے کی خواہش ظاہر کرتی ہے کہ کیف اور واشنگٹن دونوں اس تنازعے کے فوری خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
