امریکی بحریہ کے ایک ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے بحیرہ عرب میں ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق یہ ڈرون امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب “جارحانہ انداز” میں پہنچا تھا۔
فوجی بیان اور دفاعی کارروائی
وسطی کمان (سینٹ کوم) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق، “ایف-35 سی طیارے نے کیریئر اور عملے کی حفاظت کے لیے خود دفاع میں ایرانی ڈرون کو تباہ کیا۔” ان کا کہنا تھا کہ ڈرون ایرانی ساحل سے 800 کلومیٹر دور تھا اور امریکی افواج کی طرف سے ڈی اسکلیشن کے اقدامات کے باوجود جہاز کی طرف بڑھتا رہا۔
خلیج میں کشیدگی میں اضافہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ایک امریکی بحری بیڑا خلیجی خطے کی طرف جا رہا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی تصدیق کی کہ ایرانی بحریہ کے دو مسلح کشتیوں اور ایک ڈرون نے امریکی پرچم بردار تیل بردار جہاز ‘سٹینا امپیریٹو’ کو خطرے میں ڈالا تھا۔ ایک امریکی ڈسٹرائر نے فضائیہ کی مدد سے تیل بردار جہاز کو بچایا اور اسے محفوظ مقام تک پہنچایا۔
ہرمز آبنائے پر کشیدگی
بحری سلامتی کی فرم وینگارڈ ٹیک کے مطابق یہ واقعہ ہرمز آبنائے کے قریب پیش آیا۔ گزشتہ ہفتے ایرانی انقلابی گارڈز کے ایک اعلیٰ بحری افسر نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو تیل اور گیس کی عالمی نقل و حمل کے لیے اس اہم گزرگاہ کو بلاک کر دیا جائے گا۔
ایٹمی مذاکرات کی صورتحال
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت “فی الحال طے شدہ پروگرام کے مطابق” جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کے پاس کئی اختیارات ہیں اور فوجی طاقت کا استعمال ان میں سے ایک ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران جنوری میں ہونے والے مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی خونریز کچلن کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔

