واشنگٹن: امریکہ یوکرین کو پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل تیار کرنے کی اجازت دینے کے لیے بات چیت کو آگے بڑھا رہا ہے، جس کی کیف کو روسی حملوں سے دفاع کے لیے فوری ضرورت ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس طرح کے معاہدے پر شکوک و شبہات ظاہر کرنے کے باوجود جاری ہے۔ معاملے سے واقف چار ذرائع نے یہ اطلاع دی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان بات چیت میں ایک آپشن یہ بھی شامل ہے کہ یوکرین کچھ پرزے تیار کرے اور انہیں یورپ میں کسی اور مقام پر حتمی اسمبلی کے لیے بھیجا جائے۔
کیف کی فوری ضرورت اور میزائلوں کی قلت
یوکرین طویل عرصے سے جدید ترین پیٹریاٹ میزائل پی اے سی-3 کی مزید تعداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ان چند ہتھیاروں میں سے ایک ہے جو روس کی جانب سے بڑھتی ہوئی تعداد میں داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ ان کے ملک کے پاس پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز ختم ہو چکے ہیں اور اس دن ماسکو کی جانب سے داغے گئے 27 بیلسٹک میزائلوں میں سے صرف ایک کو مار گرایا جا سکا۔>
ٹرمپ کا متضاد مؤقف
گزشتہ ماہ ترکی کے شہر انقرہ میں زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کیف کو پی اے سی-3 میزائل بنانے کا لائسنس دے گا، جو یوکرین کے لیے ایک بڑی تقویت ہوتی۔ لیکن گزشتہ ہفتے، دو ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس میں زیلنسکی کے ساتھ ایک مشکل ملاقات کے بعد ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتے دکھائی دیئے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکہ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کی اجازت دینے پر اتفاق نہیں کیا اور امریکہ کو “کسی کو یہ بنانے کی اجازت دینے میں بہت محتاط رہنا چایے۔”
نئے سفارتی سربراہ کی قیادت میں پیش رفت
تین ذرائع کا کہنا تھا کہ جنگ جاری رہنے کے دوران صنعتی حکام اور امریکی فوجی افسران کی طرف سے اٹھائے گئے حفاظتی خدشات کے پیش نظر واشنگٹن نے زیلنسکی کے ملکی سطح پر انٹرسیپٹرز کی تیاری کے مطالبات کو بڑی حد تک نظر انداز کر رکھا تھا۔ اب نیٹو میں امریکی سفیر میتھیو وائٹیکر اس معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ چاروں ذرائع کے مطابق، وہ گزشتہ ماہ اس معاملے پر بات چیت اور یوکرینی حکام اور ہتھیاروں کی صنعت کے حکام کے ساتھپشنز کا جائزہ لینے کے لیے کیف گئے تھے۔
ایک ذریعے نے بتایا، “بات چیت روکنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا،” اور مزید کہا کہ امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں، فوجی حکام اور دیگر کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
زیر غور مختلف آپشنز
چار ذرائع کے مطابق، زیر غور آپشنز میں یوکرین میں پیٹریاٹ کے پرزے بنا کر انہیں حتمی اسمبلی کے لیے جرمنی بھیجنا، یوکرین کو موجودہ امریکی-یورپی پیٹریاٹ انٹرسیپٹر پروگرام میں شامل کرنا، اور کیف کو پی اے سی-3 کا ایک سستا ورژن بنانے کی اجازت دینا شامل ہے۔وائٹیکر کے ترجمان نے پیٹریاٹ اقدام کا خاص طور پر ذکر کیے بغیر کہا کہ ان کا گزشتہ ماہ کا دورہ کیف “میدان جنگ کی اختراعات، جیسے ڈرونز، پر تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے لیے تھا، جس سے امریکی جنگجوؤں کو فائدہ پہنچے گا۔” ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ امریکہ “یوکرین کے ساتھ مستقبل کے دفاعی صنعتی تعاون کے لیے کئی ممکنہ راستے تلاش کر رہا ہے،” اور مزید کہا کہ کسی بھی معاہدے میں امریکی ٹیکنالوجی کی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے۔
مستقبل کی تیاری اور موجودہ ضروریات
اگر یوکرین پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کی تیاری کا معاہدہ حاصل کر بھی لیتا ہے، تب بھی اسے نئے میزائل ملنے میں ایک سال یا اس سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ اسے اپنی فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر میزائلوں کی ضرورت ہوگی اور وہ اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے کچھ میزائل یوکرین کو منتقل کر دیں۔
یوکرین کی سابق امریکی سفیر اولہا سٹیفانیشینا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کیف طویل مدتی بنیادوں پر پی اے سی-3 انٹرسیپٹرز کی خریداری اور جلد ترسیل کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تبادلے کے آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے۔ہوں نے بتایا کہ لاک ہیڈ مارٹن مکمل طور پر مصروف عمل ہے اور جلد ہی یوکرین میں ایک ٹیم بھیجنے پر کام کر رہی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یورپ میں امریکی ہتھیاروں کی تیاری کے لائسنس پر 2022 میں روس کے حملے کے بعد سے فعال طور پر بات چیت ہو رہی ہے، جس نے یورپ کے اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے میں موجود خامیوں کو بے نقاب کیا، اور کچھ معاہدے پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا کہ نئی پرزوں کی لائنیں کھولنا آسان نہیں ہے، عام طور پر لائسنسنگ ڈیل پر دستخط کے تین سے سات سال بعد تک پیداوار شروع نہی ہوتی۔ ایران جنگ کے بعد سے اعلیٰ درجے کے میزائلوں کے عالمی ذخائر کم ہو گئے ہیں، یوکرین کے لیے مختص پیٹریاٹ میزائل امریکی فوج اور خلیج میں امریکی اتحادیوں کو بھیجے جا رہے ہیں۔ یوکرین کو امید ہے کہ پیداواری معاہدہ اسے وقت کے ساتھ اپنے ہتھیاروں کے ذخیرے کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے گا۔
