کاراکاس: سیاسی تبدیلیوں کے نئے دور کا آغاز
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے ملک میں سیاسی تشدد کے خاتمے اور مصالحت کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے جمعہ کے روز عام معافی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ آف جسٹس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معافی 1999 سے لے کر موجودہ دور تک کے تمام سیاسی تشدد کے واقعات کا احاطہ کرے گی۔
ہیلیکوئڈ جیل کی تبدیلی
عبوری صدر نے اسی تقریب میں کاراکاس کی مشہور زمانہ ‘ہیلیکوئڈ’ جیل کے بند ہونے کا اعلان کیا، جسے اپوزیشن اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے تشدد کا مرکز قرار دیا تھا۔ روڈریگز نے کہا کہ “ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہیلیکوئڈ کی عمارت، جو اس وقت حراستی مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، کو پولیس اہلکاروں کے خاندانوں اور مقامی کمیونٹیز کے لیے سماجی، کھیلوں، ثقافتی اور تجارتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔”
عدالتی نظام میں اصلاحات
ڈیلسی روڈریگز نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ “نئے عدالتی نظام کے لیے ایک وسیع قومی مشاورت” کا اہتمام کریں گی۔ غیر سرکاری تنظیموں اور اپوزیشن نے موجودہ عدالتی نظام کو بدعنوان اور حکومتی اثر و رسوخ کے تحت قرار دیا ہے۔
سیاسی قیدیوں کی رہائی
نکولس مادورو کی امریکی فوج کی جانب سے حراست کے بعد امریکی دباؤ کے تحت وینزویلین حکومت نے 8 جنوری کو سیاسی قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ 800 سے زیادہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے، جبکہ ‘فورو پینل’ نامی این جی او کے مطابق دسمبر کے بعد سے صرف 383 رہائیاں عمل میں آئی ہیں۔
- این جی او کے اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا میں کم از کم 711 سیاسی قیدی ابھی بھی جیلوں میں موجود ہیں
- ان میں 65 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں
- قیدیوں کے رشتہ دار ملک بھر کی جیلوں کے باہر کیمپ لگائے بیٹھے ہیں
خاندانوں کی امیدیں
ہیلیکوئڈ جیل کے قریب اپنے بیٹے کی رہائی کا انتظار کرنے والی 63 سالہ بیٹسی اوریلانا نے اے ایف پی کو بتایا: “یہ حیرت انگیز ہے! مجھے اپنے بیٹے کی کوئی خبر چھ ماہ سے نہیں ملی تھی۔ یہ ایک عظیم خوشی ہے، یہ عام معافی ہے، یہ مکمل آزادی ہے۔” ان کا بیٹا روڈولفو روڈریگز 2020 میں ‘آپریشن گیڈیون’ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
امریکی دباؤ اور سفارتی پیشرفت
اپوزیشن لیڈر اور نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچادو نے کہا ہے کہ “یہ حکومت کی رضامندی سے نہیں بلکہ امریکی حکومت کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ “جب جبر ختم ہو جاتا ہے اور خوف دور ہو جاتا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آمریت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔”
امریکی دباؤ کی علامت کے طور پر، امریکہ کی وینزویلا کے لیے نئی مشن چیف لورا ڈوگو ہفتے کے روز کاراکاس پہنچ رہی ہیں۔ 22 جنوری کو ان کی تقرری واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ ہے، جو 2019 سے منقطع تھے۔
مستقبل کے چیلنجز
فورو پینل کے صدر نے خبردار کیا ہے کہ “عام معافی اچھی ہے جب تک کہ یہ سزا سے فرار کا ذریعہ نہ بن جائے۔ اگر معافی کچھ لوگوں کو مستقبل میں انصاف سے بچانے کے لیے ہے، تو یہ معافی نہیں بلکہ ناانصافی کا حکم نامہ ہے۔”
اپوزیشن رہنما توماس گوانیپا، جن کے دو بھائی حراست میں ہیں، نے امید ظاہر کی ہے کہ عام معافی “جبر کے دور کا خاتمہ” کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ “یہ اس سفر کا آغاز ہو جو ہمیں آزادی اور جمہوریت کی طرف لے جائے۔”

