فرانس کے علاقے سین-ساں-دونی کے قصبے ڈرانسی میں ایک 29 سالہ خاتون اور اس کی چند ہفتوں کی شیر خوار بچی کی خون آلود لاشوں کی برآمدگی کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پیرس کے نواحی علاقے میں پیش آنے والے اس سنگین واقعے نے مقامی آبادی میں شدید تشویش اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
واقعے کی تفصیلات
پولیس ذرائع کے مطابق جمعرات کی شب مقتولہ ڈاچیکا اور اس کی بیٹی لیانا کی لاشیں ان کے اپارٹمنٹ سے برآمد ہوئیں۔ مقتولہ کی بہن نے خون سے لتھڑی لاشوں کو دیکھنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دی۔ اسی دن صبح اس نے اپنی بہن کی جانب سے ایک مایوس کن فون کال موصول ہونے کا بتایا جس میں کسی جھگڑے کا ذکر تھا۔
ملزم کی گرفتاری اور فرد جرم
بابینی کے پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق، 39 سالہ ملزم کو جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت وہ مقتولہ کی گاڑی چلا رہا تھا اور اس کے قبضے سے متوفی کی ذاتی اشیاء بھی برآمد ہوئیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق، ملزم کا مقتولہ کے ساتھ ماضی میں رومانوی تعلق رہا تھا۔
پیر کے روز ملزم پر بلیڈ سے قتل کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی۔ اس پر سابق شریک حیات کے طور پر قتل اور پندرہ سال سے کم عمر بچے کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ملزم کو جوڈیشل حراست میں بھیج دیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے دورانِ پوچھ گچھ تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔
دوسرے ملزم کی رہائی
اس مقدمے میں ایک اور شخص کو بھی حراست میں لیا گیا تھا جو مقتولہ کا موجودہ شریک حیات بتایا جاتا ہے۔ تاہم تفتیش کے دوران اس کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہ ملنے پر اسے بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا۔
تفتیش کا سلسلہ جاری
فرانسیسی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی شب پیش آیا جب مقتولہ نے اپنی بہن کو فون کر کے کسی تنازعے کی اطلاع دی۔ پولیس اس بات کی بھی چھان بین کر رہی ہے کہ ملزم نے کس طرح متوفی کی گاڑی اور ذاتی اشیاء اپنے قبضے میں لیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم نے واردات کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی۔
یہ افسوسناک واقعہ فرانس میں گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب ایک بار پھر توجہ مبذول کراتا ہے، جہاں خواتین اور بچے اکثر قریبی رشتے داروں کے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔ مقامی حکام نے متاثرہ خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے انصاف کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
