دیامر میں حالیہ سیلاب سے مزید افراد لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ لاپتہ ہونے والوں میں ایک میاں بیوی اور ان کے چار بچے شامل ہیں۔ ان کی تلاش میں سراغ رساں کتوں اور ڈرونز کی مدد لی جا رہی ہے۔

دیامر میں جاری سرچ آپریشن میں پولیس، انتظامیہ، ڈیزاسٹر منیجمنٹ، ریسکیو ٹیم، پاک فوج اور جی بی اسکاؤٹس شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق، تقریباً 10 سے 15 سیاح شاہراہ بابوسر کے علاقے میں سیلابی ریلے کی زد میں آ گئے تھے۔

سیلاب کی تباہی سے پہلے ہی ایک فیملی کے تین افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی اور ان کے دیور فہد اسلام شامل ہیں۔ اس المناک حادثے کے بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو چکی ہے۔

شاہراہِ تھک بابوسر تاحال بند ہے، اور وادی تھور میں مزید دو افراد کے سیلاب میں بہہ جانے کی اطلاع ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، شاہراہ پر آٹھ سے دس کلومیٹر تک ملبہ اور بڑے پتھروں کی موجودگی کی وجہ سے روڈ بحالی کے کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پاک فوج کی جانب سے بھی شاہراہ بابوسر اور شاہراہ قراقرم پر پھنسے سیاحوں اور مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو ممکنہ خطرات سے بچانا اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنا ہے۔