یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ گزشتہ تین روز میں اسی اہم ہوائی اڈے پر حوثیوں کا تیسرا حملہ ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حوثیوں کا دعویٰ اور وارننگ
حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا، “ہماری مسلح افواج نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا، جو اپنے ہدف سے ٹکرا گیا اور ہوائی اڈے کے آپریشن میں خلل ڈالا۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہم تمام بین الاقوامی ایئرلائنز سے آخری بار اپیل اور انتباہ دہراتے ہیں کہ وہ سعودی فضائی حدود کا استعمال بند کریں۔” واضح رہے کہ پیر کے روز سے یہ تیسرا موقع ہے جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے اس ہوائی اڈے پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سے قبل ملک کے جنوب میں واقع ابھا ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
جانی و مالی نقصان
سعودی جنرل اتھارٹی فار سول ایوی ایشن کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں مصری، الجزائری اور سوڈانی شہری شامل ہیں۔ حملوں میں 36 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اتھارٹی نے مالی نقصان کی بھی تصدیق کی ہے۔
سعودی عرب کا جوابی اعلان
دوسری جانب سعودی عرب نے جمعرات کی ابتدا میں اپنے فوجی اتحاد کے بیان کے ذریعے واضح کیا کہ ان حملوں کو “بغیر سزا” نہیں چھوڑا جائے گا۔ سعودی حکومت نے جوابی کارروائی میں حوثیوں کے “82 جائز فوجی اہداف” کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کے اردگرد کشیدگی عروج پر ہے، جہاں حالیہ ہفتوں میں تیل کے ٹینکروں پر بھی حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
