اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے رکاوٹیں ہٹانے کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کر دی ہے، حالانکہ دفاع نے مقدمے کے کاغذات فراہم نہ کیے جانے اور وکلاء سے ملاقات نہ ہونے پر سخت اعتراضات اٹھائے۔
سماعت کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سوپرا نے کیس کی سماعت کی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری وکلاء کامل خان مینڈوخیل، زینب جنجوعہ اور دیگر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں، جبکہ پراسیکیوٹر راجہ نوید بھی عدالت میں موجود تھے۔
دفاع کے اعتراضات
وکیل زینب جنجوعہ نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود انہیں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کے کاغذات کی نقول بھی فراہم نہیں کی گئیں اور وہ دو گھنٹے جیل کے باہر منتظر رہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
عدالت کا مؤقف
جج طاہر عباس سوپرا نے کہا کہ ان کے سامنے جیل کی رپورٹس موجود ہیں۔ زینب جنجوعہ نے سوال اٹھایا کہ اڈیالہ جیل سے دیگر قیدیوں کو عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے لیکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کیوں پیش نہیں کیا جا رہا۔
فرد جرم کی کارروائی
عدالت نے بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کر دی، جنہیں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔ عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو 9 اکتوبر کو طلب کر لیا۔
ہادی علی چٹھہ نے اعتراض کیا کہ انہیں ابھی تک مقدمے کے کاغذات کی نقول موصول نہیں ہوئیں اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر الزامات عائد نہیں کیے جا سکتے۔
زینب جنجوعہ نے بھی اعتراض کیا کہ نہ ایمان مزاری اور نہ ہادی علی چٹھہ کو کاغذات موصول ہوئے اور نہ ہی انہیں اپنے وکلاء سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت فرد جرم عائد نہیں کر سکتی۔
عدالت کا حکم
اعتراضات کے باوجود عدالت نے دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔ جج طاہر عباس نے زینب جنجوعہ کو بتایا کہ وہ اس حکم کو چیلنج کر سکتی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اگلی سماعت پر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
