امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ ایک ماہ سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایک طرف خلیج فارس میں امریکی جنگی جہازوں کی تعیناتی ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی بات چیت۔ یہ دوہری حکمت عملی عالمی سطح پر اس بات کے شبہات پیدا کر رہی ہے کہ آیا واشنگٹن کی نظر میں فوجی کارروائی کا کوئی منصوبہ موجود ہے یا محض سفارتی دباؤ کا ایک نیا انداز۔
فوجی طاقت کا مظاہرہ اور سفارتی زبان
گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، “میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ وہ [ایران] ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے اس سے ایک روز قبل یہ بھی کہا تھا کہ وہ “امید کرتے ہیں کہ انہیں ایران پر حملہ نہ کرنا پڑے۔” تاہم، انہوں نے فوری طور پر امریکی فوجی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “اور اب ہمارا ایک گروپ [بحری بیڑا] ایران نامی ملک کی طرف بڑھ رہا ہے۔” یہ بیڑا درحقیقت جنوری کے آخر تک خلیج فارس میں پہنچ چکا تھا۔
ایک ماہ میں دھمکیوں کا سلسلہ
ٹرمپ کی جانب سے ایران کو درپیش خطرات کا سلسلہ گزشتہ سال دسمبر سے جاری ہے:
- 29 دسمبر: ایران کو ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے سے روکنے کی دھمکی۔
- 2 جنوری: ایران میں احتجاجی مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والوں کی مدد کا وعدہ۔
- 10 جنوری: ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25% محصولات عائد کرنے کی بات۔
- 13 جنوری: مظاہرین کو پھانسی دینے کی صورت میں “سخت” کارروائی کی انتباہ۔
تاہم، 14 جنوری کو ہی ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے 800 زیر حراست افراد کو پھانسی دینے کے منصوبے روک دیے ہیں۔
وینیزویلا کے ساتھ مماثلت
ماہرین نے ٹرمپ کی موجودہ حکمت عملی کا موازنہ وینیزویلا کے معاملے سے کیا ہے، جہاں امریکی فوجیں داخل ہوئیں اور صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا گیا۔ دونوں ممالک تیل کے بڑے ذخائر کے مالک ہیں اور مغربی پابندیوں کا شکار ہیں۔ تاہم، ماہرین کے مطابق ایران کا معاملہ وینیزویلا سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ واشنگٹن میں واقع سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی ماہر مونا یعقوبیان کا کہنا ہے کہ ایران میں فوجی مداخلت “ملک میں مکمل انتشار” پھیلا سکتی ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور ایران کا موقف
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو کسی “نئی جنگ” کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے “کچلنے والے جواب” کی دھمکی دیتے ہوئے بتایا کہ ملک کے جنگی دستوں کو 1,000 نئے ڈرونز سے لیس کیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کی دفاعی اور میزائیل صلاحیتیں “کبھی بھی بات چیت کا موضوع نہیں بنیں گی۔”
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اب تک پینٹاگون کی پیش کردہ فوجی کارروائی کی کسی بھی تجویز کو حتمی منظوری نہیں دی ہے اور وہ سفارتی حل کے لیے کوشاں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال کب تک برقرار رہے گی۔

