پیرس — فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے شمالی بحرِ اوقیانوس میں واقع سینٹ پیئر اور میکیلون کے جزائر کا دورہ شروع کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ یہ علاقہ “فرانسیسی” ہے اور فرانس سے وابستہ رہے گا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ اُس نقشے کے جواب میں سامنے آیا ہے جس میں پورے خطے کو امریکی پرچم سے ظاہر کیا گیا تھا۔
میکرون کا دو روزہ دورہ اور مضبوط پیغام
فرانسیسی صدر نے ہفتے کے روز اس جزیرے پر پہنچتے ہی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت بالکل واضح ہے اور اس پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سینٹ پیئر اور میکیلون فرانس کا حصہ ہے اور یہ تعلق ناقابلِ تبدیل ہے۔
میکرون نے مزید کہا کہ “ہم ہر صبح یہ بات دہرانے نہیں جا رہے کیونکہ کچھ لوگوں کے ذہن میں عجیب خیالات آتے ہیں یا وہ عجیب باتیں کہتے ہیں۔” یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے نقشے کے تناظر میں تھا جس میں کینیڈا اور گرین لینڈ سمیت پورے خطے کو امریکی تسلط میں دکھایا گیا تھا۔
کینیڈین وزیراعظم کی تاریخی میزبانی
فرانسیسی صدر اتوار کے روز سینٹ پیئر میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی میزبانی کریں گے۔ یہ اس خطے کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی کینیڈین وزیراعظم کو اس طرح خوش آمدید کہا جائے گا۔ یہ ملاقات کینیڈا کے ساحلوں سے محض چند کلومیٹر اور گرین لینڈ سے کچھ ہی سمندری فاصلے پر ہو رہی ہے، جو آرکٹک خطے میں ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔
میکرون نے اس ملاقات کو “ایک مضبوط پیغام” قرار دیا۔ ان کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کینیڈا کو اپنا اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھتے ہیں، اسے الحاق کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں اور تجارتی جنگ میں مصروف ہیں۔
فرانس کی علاقائی طاقت کا اعادہ
میکرون کا یہ دورہ فرانس کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ شمالی امریکہ کے قریب واقع اپنے آخری زیرِ انتظام علاقے پر اپنی حاکمیت کو برقرار رکھے گا۔ سینٹ پیئر اور میکیلون پیرس سے تقریباً 4,300 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہ فرانس کا واحد علاقہ ہے جو براہِ راست شمالی امریکہ کے ساحل کے قریب موجود ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا، گرین لینڈ اور پاناما نہر سمیت متعدد علاقوں پر اثر و رسوخ بڑھانے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ فرانسیسی صدر کے اس دورے کو ماہرین خطے میں فرانس کی اسٹریٹجک موجودگی کے تحفظ اور مضبوطی کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
