طالبان سے جب بھی مذاکرات ہوتے ہیں امریکا اسے سبوتاژ کردیتا ہے، سیکریٹری خارجہ

 secretary

secretary

اسلام آباد (جیوڈیسک) سیكریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے كہا ہے كہ طالبان سے مذاكرات كا عمل امریكا كے كہنے پر شروع ہوتا ہے اور جب بھی مذاكرات كا عمل شروع كرتے ہیں تو امریكا كی جانب سے ڈرون حملہ كر كے اسے سبوتاژ كر دیا جاتا ہے۔

قومی اسمبلی كی قائمہ كمیٹی دفاع اور خارجہ كا مشتركہ ان كیمرہ اجلاس شیخ روحیل اصغر اور اویس احمد خان لغاری كی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ امریكا اور اس كی اتحادی افواج كے ایك لاكھ 30 ہزار فوجی اتنے عرصہ میں كوئی كامیابی حاصل نہیں كر سكے اور ہم سے توقع كی جاتی ہے كہ 3 دن میں نتائج دیں۔ انہوں نے کہا کہ 30 لاكھ سے زائد افغان مہاجرین پاكستان میں موجود ہیں، طالبان نے افغان مہاجرین كے كیمپوں كو ریكروٹمنٹ كا ذریعہ بنالیا ہے، كئی دہشت گرد ان كیمپوں میں پناہ لیتے ہیں، مہاجرین كا مسئلہ اب صرف انسانی مسئلہ نہیں رہا اب یہ سیكیورٹی مسئلہ بن چكا ہے۔

سیکریٹری خارجہ کے مطابق پاكستان نے افغانستان سے كہا ہے كہ وہ مہاجرین كی واپسی كے لیے اقدامات كرے، افغان قیادت كے نفرت انگیز بیانات كا جواب نہیں دیا تاہم یہ پیغام ضرور بھیجا ہے كہ ایسے بیانات سے گریز كیا جائے ایسا نہ ہو كہ نفرت اس طرف سے بھی پھیلنے لگ جائے، پاكستان افغانستان میں امن كی راہ پر گامزن ہے۔

اجلاس میں سیكرٹری دفاع عالم خٹك نے كلبھوشن یادیو كے انكشافات بارے كمیٹی كو آگاہ كرتے ہوئے بتایا کہ كلبھوشن بلوچستان اور كراچی میں نیٹ ورك چلا رہا تھا، كلبھوشن یادیو كی معلومات پر مبنی ثبوت تیار كر رہے ہیں۔

كمیٹیوں كے اركان نے وزارت خارجہ اور دفاع كی بریفنگ پر عدم اطمینان كا اظہار كر دیا۔ اركان كا كہنا تھا كہ اخباری معلومات فراہم كی جا رہی ہیں، بھارت پاكستان كو غیر مستحكم كررہا ہے بتایا جائے كہ ہماری حكمت عملی كیا ہے۔