مل کر جدا ہوئے تو ؟

مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم جب

اک اک پتھر جوڑ کے میں نے جو دیوار بنائی تھی جھانکوں اس کے پیچھے تو رسوائی ہی رسوائی تھی یوں لگتا ہے سوتے جاگتے اوروں کا محتاج ہوں آنکھیں میری اپنی ہیں پر ان میں

بے چین بہاروں میں کیا کیا ہے جان کی خوشبو آتی ہے جو پھول مہکتا ہے اس سے طوفان کی خوشبو آتی ہے کل رات دکھا کے خواب قریب سو سیج کو سونا چھوڑ گیا ہر

اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گر کر بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد