شہید وفا قسط نمبر۱

تحریر : مسکان احزم وہ آواز کی سمت مسلسل چل رہی تھی۔آواز قریب تر ہو رہی تھی۔کوئی تو تھا وہاں پر جو وائلن کی اتنی خوبصورت دھن کو ہوا کے سپرد کر رہا تھا۔دھیرے دھیرے اس

گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری جو شامت آئی تو ایک دن اپنے پڑوسی لالہ کرپا شنکرجی برہمچاری سے برسبیل تذکرہ کہہ بیٹھے کہ “لالہ جی امتحان کے دن قریب

ابن صفی ۔ عمران سیریز دوسری شام جولیا آفس سے گھر آکر لیٹ ہی گئی تھی۔۔! بوریت۔۔! وہ سوچ رہی تھی کہ اس کو ذہنی اضمحلال سے کیسے چھٹکارا ملے گا! آج وہ دن بھر اداس

سعادت حسن منٹو “کھیل خوب تھا، کاش تم بھی وہاں موجود ہوتے۔” “مجھے کل کچھ ضروری کام تھا مگر اس کھیل میں کونسی چیز ایسی قابلِ دید تھی جسکی تم اتنی تعریف کر رہے ہو؟””ایک صاحب

سعادت حسن منٹو کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا

سعادت حسن منٹو وہ جب اسکول روانہ ہوا تو اس نے راستے میں ایک قصائی دیکھا جس کے سر پر ایک بہت بڑا ٹوکرا تھا۔ اس میں دو تازہ ذبح کیئے ہوئے بکرے تھے۔ کھالیں اتری

سعادت حسن منٹو ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا، کلونت کور پلنگ سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کر طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کر دی۔ رات

سعادت حسن منٹو امر تسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی، راستے میں کئی آدمی مارے گئے، متعدد زخمی اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔ صبح دس

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھانی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا، کلونت کور پلنگ سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کر دی۔ رات کے بارہ بج

محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس امربیل کی طرح ہوتی ہے۔ کبھی دھیمے سے دل کی منڈیروں پر چڑھ جاتی ہے تو کبھی چپکے سے کواڑوں میں الجھ جاتی ہے۔ کبھی چاندنی راتوں میں چاند سے شرما جاتی ہے تو

(1) گنگو کو لوگ برہمن کہتے ہیں اور وہ اپنے کو برہمن سمجھتا بھی ہے۔ میرے سائیس اور خدمتگار مجھے زور سے سلام کرتے ہیں، گنگو مجھے کبھی سلام نہیں کرتا۔ وہ شاید مجھ سے پالاگن

کسی جنگل میں ایک بندریا رہا کرتی تھی۔ اس بندریا کا ایک بچہ بھی تھا۔ جس سے وہ بڑی محبت کیا کرتی تھی۔ یہ بچہ سارا سارا دن اپنی ماں کے کندھے پر چڑھا رہتا۔ کسی

یہ کوئی دو بجے کا وقت تھا، بادلوں کا ایک ہلکا سا غلاف چاند کو چھپائے ہوئے تھے۔ یکایک میری آنکھ کھل گئی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ساتھ والی چارپائی پر اماں سسکیاں لے رہی ہیں۔

کبوتر کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ یہ آبادیوں میں جنگلوں میں، مولوی اسمعیل میرٹھی کی کتاب میں غرض یہ کہ ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ کبوتر کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ نیلے کبوتر ۔

ننھا عزیز سر پر ایک غلیظ سا بستہ رکھے تھکے تھکے قدم اٹھائے ہولے ہولے گنگناتا جا رہا تھا۔ تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا! کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا! اس نے اچانک

“بابا جی کوئی کہانی سنائیے۔” سکول کے تین چار لڑکے الاؤ کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور اس بوڑھے آدمی سے جو ٹاٹ پر بیٹھا اپنے استخوانی ہاتھ آگ تاپنے کی خاطر الاؤ کی

جی ہاں ہے تو عجیب بات مگر بعض باتیں سچی بھی ہوتیں ہیں، دن بھر وہ برساتی نالوں میں چقماقی کے جھولیاں چنتی ہے اور رات کو انہیں آپس میں بجاتی ہے، اور جس اسے جنگاریاں

اس نے کپڑا نچوڑ کر الگنی پر لٹکایا اور منڈیر پر بیٹھے ہوئے کوے کو دیکھ کر بولی! تو جل مرے موئے کالے کلوٹے بھتنے، کائیں کائیں سے میرا مغز چاٹ لیتا ہے۔ گاؤں بھر میں

کمپیوٹر کی اسکرین روشن تھی ۔ ثمینہ پورے انہماک کے ساتھ اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی ۔ اسے اپنے گردوپیش کا ہوش نہیں تھا ۔ اس کے دائیں ، بائیں اوپر نیچے کمپیوٹر اسکرین ہی

وہ دالان میں مسکراہٹ کے پھول برساتی ہیلو کہتی ہوئی اندر عروج کے پاس جا بیٹھی اور ہمیشہ کی طرح احسان کو یوں محسوس ہوا جیسے کے کسی بھولے بھٹکے نے اسے محصور کر لیا ہو،

ٹیلی فون ایکسچینج کی نئی عمارت بن رہی ہے، عورتوں اور مردوں کا حجم غفیر سروں پر ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے کے پیچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جا رہے ہیں، مصالحہ ملانے والی مشین کی

جب کبھی بیٹھے بٹھائے، مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو نیم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کیطرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان