میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سرِ آئینہ مرا عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں

تم نے سچ بولنے کی جرات کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی منزلیں راستوں کی دھول دھوئیں پوچھتے کیا ہو تم مسافت کی اپنا زادِ سفر بھی چھوڑ گئے جانے والوں نے کتنی عجلت کی