ایکسٹیسی

سبز مدھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دھنک سرد کمرے میں مچلی گرم سانسوں کی مہک بازوئوں کے سخت حلقے میں کوئی نازک بدن سلوٹیں ملبوس پر، آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا گرمی رُخسار سے دہکی

تمہار کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمہاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہو گی

تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے قسمت میں مری، صلہ نہیں ہے بچھڑے تو نجانے حال کیا ہو جو شخص ابھی ملا نہیں ہے جینے کی تو آرزو ہی کب تھی مرنے کا بھی حوصلہ

رات ابھی تنہائی کی پہلی دہلیز پہ ہے اور میری جانب اپنے ہاتھ بڑھاتی ہے، سوچ رہی ہوں ان کو تھاموں زینہ زینہ سناٹوں

کیا کیا دُکھ دل نے پائے ننھی سی خوشی کے بدلے ہاں کون سے زخم نہ کھائے تھوڑی سی ہنسی کے بدلے زخموں کا کون شمار کرے یادوں کا کیسے حصار کرے اور

اس نے میرے ہاتھ میں باندھا اُجلا کنگن بیلے کا پہلے پیار سے تھامی کلائی بعد اس کے ہولے ہولے پہنایا گہنا پھولوں کا پھر جھک کر ہاتھ کو چوم لیا! پھول تو آخر پھول ہی

دل پہ اک طرفہ قیامت کرنا مسکراتے ہوئے رخصت کرنا اچھی آنکھیں جو ملی ہیں اس کو کچھ تو لازم ہوا وحشت کرنا جرم کس کا تھا، سزا کس کو ملی کیا گئی بات پہ حجت

بعد مدت اسے دیکھا، لوگو وہ ذرا بھی نہیں بدلا، لوگو خوش نہ تھا مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی اس کے چہرے پر لکھا تھا ، لوگو اس کی آنکھیں بھی کہے دیتی تھیں رات