تمہارے آنے تک
جل رہے ہیں بھیگی پلکوں پر ستارے آج بھی
لہو میں جِسم نہلانا پڑے گا
تمھیں کیا پتہ کس کرب سے گزرنا پڑتا ہے
ترس گئے آں
تجھ کو زندہ باد کریں
نگاہ کرم
یہ کیسے فلسفی کا خلاصہ ہے زندگی
وہ جِس کی فطرتِ بد سے گریزاں موسمِ گل ہو
اہل خرد کی بھیس میں صیاد ہم ہوئے
رمضان آ گیا
حب حبیب
بجٹ 2017-18
غزل
حوصلے اور ضبط کا امتحان ہے
ماں تجھے سلام
ماں
دستک
غزل
مزدور
رحمت مسلسل
قطعہ
بے وقت ہی مسافت پر اکسا رہا ہے
بھوک ڈھلتی ہے جب تخیل میں
Page 1 of 29123Next ›Last »