شام کے درد سے جھولی بھر لی

شام کے درد سے جھولی بھر لی ہجر کی گرد سے جھولی بھر لی بھری دنیا میں ہمارے دل نے ایک ہی فرد سے جھولی بھر لی ایک آنسو نے ذرا سا بڑھ کر عارضِ زرد

بے تحاشا ہے تجھے یاد کیا اور بھلایا بھی بہت ہے تجھ کو ساری رونق ہی ترے دم سے ہے اور ترے بکھرے ہوئے غم سے ہے جس قدر میں نے تعلق ترا محسوس کیا اتنی

تم نے مرجھائے ہوئے پھول کبھی دیکھے ہیں؟ دل کی قبروں پہ پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجر کی لاش کی آنکھوں پہ دھرے تم نے اکتائے ہوئے خواب کبھی دیکھے ہیں؟ درد کی پلکوں سے لپٹے ہوئے گھبرائے

ہجر اور ڈوبتے سورج کی قسم شام کے پار کوئی رہتا ہے جسکی یادوں سے بندھی رہتی ہے دھڑکن دل کی اور اسے دیکھ کے سینے میں یہی لگتا ہے جیسے ویرانے میں بیمار کوئی رہتا

تمہاری تلخیوں سے اور تمہارے نا تراشیدہ رویوں سے تمہاری چھوٹی چھوٹی رنجشوں سے اور بڑی ناراضگی سے بھی محبت کم نہیں ہو گی تمہاری شہر بھر سے دل لگا لینے کی عادت سے تمہاری بے

محبت میں اگرچہ دل کی آنکھیں مدتوں پلکیں جھپکنا بھول جاتی ہیں مگر ان رتجگوں کے سرخ ڈورے، نیل گوں سنو لاہٹیں اور ابروئوں کی رازداری بھی عجب ایک حسن پیدا کرتی جاتی ہے محبت میں

نہیں شامِ سفر ایسا نہیں ہے مسافر لوٹ کر آیا نہیں ہے ہم اتنے دکھ میں بکھرے ہیں ہمارا حال تم جیسا نہیں ہے میں ایسے شہر میں تنہا کھڑا ہوں جہاں تنہائی بھی تنہا نہیں

کر کے کوئی ایک ذرا سی بات سنہری کر جاتا ہے میری ساری رات سنہری پوری ہو گی میری بھی اک دن امید ہو جائیں گے میرے بھی حالات سنہری ایسے آتے ہیں منور صلیبوں پر

ہمسفر کوئی بھی نہیں اب تو چارہ گر کوئی بھی نہیں اب تو یار کتنے تھے اچھے وقتوں میں ہاں مگر کوئی بھی نہیں اب تو میں نے دل کو ترے حوالے کیا مجھ کو ڈر

اگرچہ میں سمجھتا تھا کہ کوئی راستہ لوٹا نہیں کرتا نہ دریا مڑ کے آتے ہیں نہ شامیں واپسی کی سوچ پر ایمان رکھتی ہیں اگرچہ میں سمجھتا ہوں کہ لمحے تو فقط آگے ہی بڑھتے

ہمارے دل کی قائل ہو گئی تھی اداسی کتنی مائل ہو گئی تھی لگا جیسے سمندر آ پڑے ہیں ذرا سی بات حائل ہو گئی تھی وہ جب سانسوں میں تیری خوشبوئیں تھیں ہوا اس رات

غم کے پاتال میں تمہیں چاہا ہم نے ہر حال میں تمہیں چاہا جب درختوں پہ پھول آئے تھے بس اسی سال میں تمہیں چاہا کون ہے جس نے یوں ہماری طرح وقت کے جال میں

دل کسی بارِ بے وفا کی طرح باخبر ہے بہت خدا کی طرح زندگی بھر تمہارا نام مرے دل سے نکلا کسی دعا کی طرح میں نے ہر موڑ پر تجھے ڈھونڈا ہجر کے شہر کی

صبح سے نکلا ہوا ہے گھر سے رات بھی بیت چلی ہے اب تو جانے کس بیتے ہوئے وصل کے کملائے ہوئے در پہ پڑا ہو گا کہیں جانےکس الجھے ہوئے ہجر کےزانو پر ذرا ٹیک

ڈر گئے درد، ستم سہم گئے آپ کے ذکر سے غم سہم گئے ہم سمندر کی طرح چپ چپ ہیں وہ سمجھتا ہے کہ ہم سہم گئے آج کیا ظلم میں قدرت ہے بہت آج کیا

ایک دن چاند سے بچھڑنا ہے آنکھ، تقدیر، اور تعلق جو جانے کس دوسرے کے بس میں ہیں سانپ بن بن کے ڈستے رہتے ہیں اپنی سانسوں میں ڈوبتے دل کو چاند جس طرز کا مسافر

اپنی خاطر ہی بنے ہیں تالے عمر بھر ساتھ چلے ہیں تالے ہم عجب قیدی ہیں فرحت جن کے آنسوئوں پر بھی لگے ہیں تالے تم ہمیں کہتے ہو دروازوں کا ہم نے زخموں کو دیے

ابھی کچھ پل ہمارے ہاتھ میں ہیں کون جانے کونسا لمحہ ہمارے ہاتھ سے پھسلے، گرے اور پائوں کی زنجیر ہو جائے ابھی یہ دن جو لگتا ہے کہ ہم اک دوسرے کیساتھ رہ سکتے ہیں

اب یہی آخری سہارا ہے میں ترا، تو میرا کنارا ہے لوٹنا اب نہیں رہا ممکن تو نے کس موڑ پر پکارا ہے کیا تمہیں اب بھی یاد آتا ہے چاند کے پاس جو ستارا ہے