واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے

واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے اس راز کو پوچھو کسی برباد نظر سے اک اشک نکل آیا ہے یوں دیدہ تر سے جس طرح جنازہ کوئی نکلے بھرے گھر سے رگ رگ میں

جب وہ پشیماں نظر آئے ہیں موت کے سامان نظر آئے ہیں ہو نہ ہو اب آ گئی منزل قریب راستے سنسان نظر آئے ہیں عشق میں سہمے ہوئے دو آتشانہ مدتوں انجان نظر آئے ہیں

جبیں عشق میں آسرا دینے والے مجھے بھیڑ میں راستہ دینے والے کرم جبرِ حالات کا ہے یہ ورنہ بڑے باوفا تھے دغا دینے والے مری طرح دو دن تو جی کے دکھائیں مری مے کشی

وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سُنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں

اکیلے ہیں وہ اور جھنجھلا رہے ہیں میری یاد سے جنگ فرما رہے ہیں الٰہی میرے دوست ہوں خیریت سے یہ کیوںگھر میں پتھر نہیں آ رہے ہیں بہت خوش ہیں گستاخیوں پر ہماری بظاہر جو

ہجر کی شب ہے اور اُجالا ہے کیا تصور بھی لٹنے والا ہے غم تو ہے عینِ زندگی لیکن غمگساروں نے مار ڈالا ہے عشق مجبور و نامراد سہی پھر بھی ظالم کا بول بالا ہے

بے قراری گئی قرار گیا ترکِ عشق اور مجھ کو مار گیا وہ جو آئے تو خشک ہو گئے اشک آج غم کا بھی اعتبار گیا ہم نہ ہنس ہی سکیں نہ ہی رو سکیں وہ

الٰہی ترک محبت نہ راس آئے مجھے غریب دل سے بغاوت نہ راس آئے مجھے کہیں اُنہیں بھی تڑپنا پڑے نہ میرے لیے خدا کرے کہ محبت نہ راس آئے مجھے گِری جو برقِ مسرت تو

بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے یہ آخری چراغ بجھائے نہیں بنے دُنیا نے جب مرا نہیں بننے دیا اُنہیں پتھر تو بن گئے وہ پرائے نہیں بنے توبہ کیے زمانہ ہوا، لیکن آج تک

درد بے کیف غم بے مزا ہو گیا ہو نہ ہو کوئی مجھ سے خفا ہو گیا بعدِ ترکِ تعلق یہ کیا ہو گیا ربط پہلے سے بھی کچھ سِوا ہو گیا التفاتِ مسلسل بَلا ہو

ایک شعلہ ساگرا شیشے سےپیمانےمیں لو کرن پُھوٹی سویرا ہوا میخانے میں کفر و اسلام ہم آغوش ہیں میخانے میں کعبہ شیشے میں ہے بُت خانہ ہے پیمانے میں کیسی مبہوت سے بیٹھے ہیں جنابِ زاہد

ہم اُنہیں وہ ہمیں بُھلا بیٹھے دو گنہگار زہر کھا بیٹھے حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے تیر مارے تھے تیر کھا بیٹھے آندھیو! جائو اب کرو آرام! ہم خود اپنا دیا بجھا بیٹھے جی