سبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرح

سبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرح یوں وقت کے ہاتھوں سے سرک جاتی تھی زندگی ہر بار دکھلا کے جھلک جاتی تھی پیچھے چلتے رہے ترسے ہوئے بالک کی طرح جیسے ہی بھرتا پیمانہ

اندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھی زندگی میں کبھی چوٹ کھائی بھی تھی پیار ہی پیار کے سب کھیل کھیلے کم ظرفوں سے عزت کرائی بھی تھی کبھی دو بدو کبھی چپ رہے ان پتھروں میں

حساب دوراں کر رہے تھے غم دوراں کا حساب ہم جاناں اور اس حساب میں تم یاد بے حساب آئے ملا نہ پھر کبھی تیرے جیسا دم ساز کبھی گو زندگی میں لاکھوں انقلاب آئے عزت

مجھے تو تیرے دھوکے کا گما ن تک نہ تھا میر ے پاس بچنے کا سامان تک نہ تھا دل کی دنیا تھی سیل بند۔۔۔۔۔ ہر طرف تھا ہرا ہرا۔۔۔۔۔۔ آ نگن میں کوئی مہمان تک

ہم کو بھولے تو کیا کمال کیا ہم نے ہی تجھے صاحب جمال کیا اب ہر طرف چرچے ہیں تیری مسیحائی کے تم نے میرے عروج کو ،رُوبہء زوال کیا کر کر منتیں تیری عادت بگاڑدی

. آج پہلو میں میر ے خود کو عیاں ہو نے دو . عشق میں ہو تا ہے اب جتنا زیا ں ہو نے دو . . تجھ کو کھو نے کا خیا ل آیا اشکو

میں نے لگا دی ہے اس کو پیار کی دیمک اب وہ اندر ہی اندر گل جائے گا پہلے ملتا تھا واسطوں سے۔۔۔۔۔۔۔ اب خود ہی وا سطوں میں ڈھل جائے گا عشق کرنا آسان نہیں

وہ ہم سے فضول کی باتوں پہ بس لڑا نہ کرے ہزار زہر ہو دل میں ، بیزار ہوا نہ کر ے کہاں کی جیت ؟ قصہ ّ ہے فقظ ذاتوں کا شکست یار کو، لفظوں

ابھی تو آنکھ ہی کھُلی تھی رخ باطن کی عمر زنداں کی دیواروں پہ سر پٹکتی رہی کیسا حسن تھا جو بن گیا عذاب جاں زندگی پنجہء استبداد میں سسکتی رہی شمع بھی جلتی ر ہی

متاع یاد کو دل میں سنبھال رکھا تھا وہ بھولنے نہ پائے اس کا خیال رکھا تھا کب تلک ان حوصلوں کو آزمائو گے وقت رخصت اس کے آگے سوال رکھا تھا ہزار بار کے سنے

بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کے آنکھیں اکثر کتنے بے درد کو آنکھوں میں بسار کھا تھا اُس کے ہر عیب پے ڈالے ر کھا پردہ ہم نے کیوں ہر الزام خود پے ہی اُٹھا رکھا

میں کیا بتائوں آپ کو، میری زندگی تو جہاد ہے کبھی حسرتوں کی ہے بے کلی، کبھی وحشتوں کا فساد ہے کبھی تو ملا، کبھی وہ ملا، کبھی کوئی بھی نہ کہیں ملا بس یو نہی

اُبھروں میں تیرے ہونٹوں پہ لمس کی طرح اُتروں میں تیری آنکھوں میں عکس کی طرح بکھروں میں تیرے سینے پہ ریشم کی طرح سمٹ جائوں تیری باہوں میں آنچل کی طرح بس جائوں تیری سانسوں

اپنے اندر ڈھو نڈے سے بھی تیرا نشاں نہ ملا ہم دل کے راستوں پہ تجھے کھو جتے رہے کیا غم ہستی ، یا غم جاناں، یا غم روز گار؟ ہم مستقل ہی تیری قسم سو

کمال حُسن تھا اور معاملہ عقیدت کا وہ کیسے طے کرے مرحلہ محبت کا مزاج اُس کا زرا سا عاشقانا تھا یہاں چل پڑا سلسلہ عبادت کا وفور شوق میں بڑھتا رہا قدم بہ قدم بیت

اک دوست تھا بنایا دشمنوں جیسا کیوں پانی پہ گھر بنایا تنکوں جیسا جب بھی قدم بڑھے زخموں سے اٹ گئے کیوں راستہ بنایا، کانٹوں جیسا تھی مجھ کو بھی خبر، بڑی دور ہے نگر کیوں

کوئی بات سی بات تھی ماہ کا مل کی رات تھی چھا ئی تھی گھٹا سی دل پہ اکھیوں میں برسات تھی بند ہو گئی تھیں را ہیں ہر شہہ پہ ما ت تھی ایسے میں

ہم کو بھُولے تو کیا کما ل کیا ہم نے ہی تجھے صا حب جمال کیا اب ہر طرف چر چے ہیں تیری مسیحائی کے تم نے میرے عُروج کو ،رُوبہء زوال کیا کر کر منتیں

ہم کو بھُولے تو کیا کما ل کیا ہم نے ہی تجھے صا حب جمال کیا اب ہر طرف چر چے ہیں تیری مسیحائی کے تم نے میرے عُروج کو ،رُوبہء زوال کیا کر کر منتیں

ہو، احساس اُس کو کیا بھلا ہم سے بھی نہ ہو سکا گلہ نہ پوچھا اُس نے ا یک بار تم روئے کیوں تھے بار بار کیسے کاٹیں اتنی دوریاں در میاں میں تھیں مجبوریاں نہ

ہو، احساس اُس کو کیا بھلا ہم سے بھی نہ ہو سکا گلہ نہ پوچھا اُس نے ا یک بار تم روئے کیوں تھے بار بار کیسے کاٹیں اتنی دوریاں در میاں میں تھیں مجبوریاں نہ

اے جان محبت ٹھیر زرا میری بات تو پوری سن لے زرا مجھے اپنی کہانی کہنے دے میری مجبوریوں کو دیکھ زرا اچھا ایسا کر دلگیر نہ ہو وہ معاملہ پھر سے کھول زرا وہ کرم

اے جان محبت ٹھیر زرا میری بات تو پوری سن لے زرا مجھے اپنی کہانی کہنے دے میری مجبوریوں کو دیکھ زرا اچھا ایسا کر دلگیر نہ ہو وہ معاملہ پھر سے کھول زرا وہ کرم

کمال حسن تھا اور معاملہ عقیدت کا وہ کیسے طے کرے مرحلہ محبت کا مزاج اُس کا زرا سا عاشقانا تھا یہاں چل پڑا سلسلہ عبادت کا وفور شوق میں بڑھتا رہا قدم بہ قدم بیت