شہید وفا قسط نمبر۱

تحریر : مسکان احزم وہ آواز کی سمت مسلسل چل رہی تھی۔آواز قریب تر ہو رہی تھی۔کوئی تو تھا وہاں پر جو وائلن کی اتنی خوبصورت دھن کو ہوا کے سپرد کر رہا تھا۔دھیرے دھیرے اس

دروازہ کھولیں ٹھک ٹھک ٹھک رات کے گیارہ بجے فرانس میں آپ کا دروازہ اس زور سے پیٹا جائے تو گھر کا ہر فرد بوکھلا جاتا ہے ـ میرے ہسبنڈ باہر گئے کہ آواز کسی دیسی

دنیاوی سب ذایقے وقتی اور نقصان دہ ہیں۔کِسی عمر رسیدہ مائی سے حالِ گزشتہ دریافت کریں کہ آج جو مائی ہے وہ بھی کبھی خوبرو حسینہ تھی۔ٹرین میں تو ایمرجنسی روکنے کا انتظام ہوتا ہے مگر

گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کی طرف دوڑتا ہے۔ ہماری جو شامت آئی تو ایک دن اپنے پڑوسی لالہ کرپا شنکرجی برہمچاری سے برسبیل تذکرہ کہہ بیٹھے کہ “لالہ جی امتحان کے دن قریب

بادشاہ کےجوتے کہتے ہیں کسی بڑے ملک کے بادشاہ نے رعایا کی خبر گیری کیلئے مملکت کے طول و عرض کا دورہ کیا۔ اس لمبے سفر سے واپسی پر بادشاہ کے پیر کچے پکےر استوں اور

پطرس بخاری کے مضامین ۔ لاہور کا جغرافیہ تمہید تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ گزرچکا ہے، اس لیے دلائل و براہین سے اس

ملیر کی یادوں کے ساتھ ہرے بھرے پیڑ وابستہ ہیں: امرود، آم، انار، نیم، گلاب، چمبیلی، موتیا۔ ہم بچے نانی کے گھر ہر ہفتے جایا کرتے۔ نانا اور ماموں کے کوارٹر ملے ہوئے تھے۔ ہر کوارٹر

ابن صفی ۔ عمران سیریز دوسری شام جولیا آفس سے گھر آکر لیٹ ہی گئی تھی۔۔! بوریت۔۔! وہ سوچ رہی تھی کہ اس کو ذہنی اضمحلال سے کیسے چھٹکارا ملے گا! آج وہ دن بھر اداس

ابن صفی ۔ عمران سیریز ایکس ٹو نے اپنے ماتحتوں کو باقاعدہ طور پر ہدایت کردی تھی کہ وہ عمران کے متعلق کسی چکر میں نہ پڑیں۔ نہ تو اس کے فلیٹ کے فون نمبر رنگ

ابن صفی ڈھمپ اینڈ کو کا دفتر بڑے مزے میں چل رہا تھا مگر اس کی منیجری کم از کم خاور کے بس کا روگ نہیں تھی کیونکہ بزنس کے چکروں کے لئے اس کا ذہن

سعادت حسن منٹو “کھیل خوب تھا، کاش تم بھی وہاں موجود ہوتے۔” “مجھے کل کچھ ضروری کام تھا مگر اس کھیل میں کونسی چیز ایسی قابلِ دید تھی جسکی تم اتنی تعریف کر رہے ہو؟””ایک صاحب

سعادت حسن منٹو کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا

سعادت حسن منٹو وہ جب اسکول روانہ ہوا تو اس نے راستے میں ایک قصائی دیکھا جس کے سر پر ایک بہت بڑا ٹوکرا تھا۔ اس میں دو تازہ ذبح کیئے ہوئے بکرے تھے۔ کھالیں اتری

سعادت حسن منٹو ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا، کلونت کور پلنگ سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کر طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کر دی۔ رات

سعادت حسن منٹو امر تسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی، راستے میں کئی آدمی مارے گئے، متعدد زخمی اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔ صبح دس

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھانی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ

میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی، ہاں بعض مقاصد خاص رکھتا ہوں جن کے بیان کے لیے حالات و روایات کی رو سے میں نے

میرے خیال میں مجھے اب اعلان کرنے میں تاخیر نہیں کرنا کہ میں ایک ماہر اقبالیات ہوں کیونکہ گزشتہ 30 برس سے سال میں چار مرتبہ یوم اقبال کے موقع پر میں اقبال کے حوالے سے

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا، خود سر کھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجیے دودھ دیتی ہے، بکری کو لیجیے

امتحان جیسا بھی ہو ایک کڑا وقت ہوتا ہے جس میں اعصاب اور نفسیات کا پہلو زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ بعض طلباء سارا سال سخت محنت کرتے ہیں لیکن امتحان میں توقع کے

کسی بھی دوسرے فن یا مہارت کیطرح کامیابی حاصل کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے اور ان تمام فنون اور مہارتوں کا دارومدار مکمل طور پر کامیابی اور جیت پر ہے۔ یعنی کسی بھی مقصد کے