عکس اور میں

دہکے عارض۔۔ آئینے میں تیز شعلوں کی ضیاء احمریں لب ۔۔۔۔۔۔۔ زخمِ تازہ موجِ خوں سے آشنا تیکھے ابرو ۔۔۔ لوحِ سیمیںپر دھویںکاخط کھنچا بکھرے گیسو۔۔۔۔۔ کالی راتوں کا ملائم ڈھیر سا بہتی افشاں۔۔۔۔۔۔ جگمگاتی مشعلوں

عروس صبح سے آفاق ہمکنار سہی شکستِ سلسلئہ قیدِ انتظار سہی نگاہِ مہرِ جہاں تاب کیوں ہے شرمندہ شفق کا رنگ شہیدوں کی یادگار سہی بکھرتے خواب کی کڑیوں کو آپ چُن دیجیے کیا تھا عہد

گُلوں میں حُسن، شگوفوں میں بانکپن ہو گا وہ وقت دور نہیں جب چمن چمن ہو گا جہاں پہ آج بگولوں کا رقص جاری ہے وہیں پہ سائیہ شمشاد ونسترن ہو گا فضائیں زرد لبادے اُتار

چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا قربِ منزل کے لیے مر جانا ہم بھی کیا سادہ نظر رکھتے تھے سنگ ریزوں کو جواہر جانا مشعلِ درد جو روشن دیکھی خانئہ دل کو منور جانا رشتئہ

رعنائی نگاہ کو قالب میں ڈھالیے پتھر کے پیرہن سے سراپا نکالیے گزرا ہے دل سے جو رمِ آہُو سا اک خیال لازم ہے، اس کے پائوں میں زنجیر ڈالیے دل میں پرائے درد کی اک

آگ کے درمیان سے نکلا میں بھی کس امتحان سے نکلا پھر ہوا سے سُلگ اٹھے پتے پھر دھواں گلستان سے نکلا جب بھی نکلا ستارئہ اُمید کہر کے درمیان سے نکلا چاندنی جھانکتی ہے گلیوں

عشق پیشہ نہ رہے داد کے حقدار یہاں پیش آتے ہیں رُعونت سے جفا کار یہاں سر پٹک کر درِِ زنداں پہ صبا نے یہ کہا ہے دریچہ، نہ کوئی روزنِ دیوار یہاں عہدوپیماں وفا، پیار

خاموشی بول اٹھے، ہر نظر پیغام ہو جائے یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے ستارے مشعلیں لیکر مجھےبھی ڈھونڈنے نکلیں میں رستہ بھول جائوں،جنگلوں میںشام ہوجائے میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی

جہاں تلک یہ صحرا دکھائی دیتا ہے مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے برا نہ مانیے لوگوں کی عیب