خواب اور حقیقت

مجھے اچانک نظر وہ آئی! میں چُپ رہا پر کچھ اس طرح سے مرے پریشاں سوال اُبھرے تمام سوئے خیال اُبھرے تڑپتی جانوں کو جیسے لے کر کسی مچھیرے کا جال اُبھرے سمجھ نہ پایا کہ

یہ زمینی بھی زمانی بھی فطرتِ عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائے پہلے ہے عجب عمرِ جاودانی بھی تم نے جو داستان سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے

نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ لفظ رک جاتے ہیں آکر مری گفتار کے بیچ دل کی باتوں میں نہ آ یار کہ اس بستی میں روز دل والے چنے جاتے ہیں دیوار

میں اس سے قیمتی شے کوئی کھو نہیں سکتا عدیل ماں کی جگہ کوئی ہو نہیں سکتا مرے خدا یہاں درکار ہے مسیحائی! لہو کو آدمی اشکوں سے دھو نہیں سکتا یہ اور بات ہے ہو