ملیر کی گلیاں

ملیر کی یادوں کے ساتھ ہرے بھرے پیڑ وابستہ ہیں: امرود، آم، انار، نیم، گلاب، چمبیلی، موتیا۔ ہم بچے نانی کے گھر ہر ہفتے جایا کرتے۔ نانا اور ماموں کے کوارٹر ملے ہوئے تھے۔ ہر کوارٹر

میرے خیال میں مجھے اب اعلان کرنے میں تاخیر نہیں کرنا کہ میں ایک ماہر اقبالیات ہوں کیونکہ گزشتہ 30 برس سے سال میں چار مرتبہ یوم اقبال کے موقع پر میں اقبال کے حوالے سے

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ” علم لازوال دولت ہے” مگر علم حاصل کرنے کیلئے دولت کہاں سے لائیں۔ ابن انشاء کو اللہ بخشے ” کیا باغ و بہار آدمی تھے” جن دنوں لاہور میں غیرت

علامہ مشرقی ایک نابغہ شخصیت تھے۔ فرماتے ہیں ” ہم مسلمان مدت تک یہ سمجھتے رہے کہ مولوی ہمیں ٹھیک بتاتا ہے، فرق ہے تو ہم میں ہے ہمارے عمل کرنے میں کسر رہ گئی ہے”

بچپن میں سیکھا گیا سبق انسان تا عمر یاد رکھتا ہے۔ بچوں کو اچھی باتیں سکھانے اور اچھی عادات و اطوار سے متعارف کروانے کیلئے یہ عمر ” آئیڈیل ” تصور کی جاتی ہے۔ آنکھ کھولتے

دل بھی عجیب چیز ہے، کبھی اپنے پیاروں کے ہاتھوں ٹوٹتا ہے، کبھی اپنے دشمنوں کے ہاتھوں، کبھی حالات اور اسباب کے ہاتھوں، تو کبھی تقدیر کے ہاتھوں اور کبھی کبھار تو خود اپنے ہاتھوں اپنا

ایک 85 سالہ عمر رسیدہ باپ اپنے 45 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر کے ھال کمرے میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک کوے نے کھڑکی کے قریب آ کر شور مچایا۔ باپ کو نجانے کیا سوجھی،

اکثر و بیشتر ہم شکایت کرتے ہیں کہ جی بڑی دعائیں مانگیں تھیں قبول نہیں ہوئیں۔ او جی ہماری تو دعائیں پوری نہیں ہوتی ہیں۔ دعا کا طریقہ بھی ایسے ہی ہے جیسے نلکا “گیڑ” کر

پرانے زمانے میں چین کے شمالی علاقہ میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ اس کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی۔ اس بوڑھے آدمی کی مشکل یہ تھی کہ اس کے دروازے کے سامنے دو

یہ صرف تعلیم ہی کا نتیجہ تھا کہ سلطان توصیف ایک غریب باپ کی بیٹی اور معمولی ماں کی بچی ، داد جیسے متمول تاجر کی بہو بنی ۔ باپ کے بعد اس کا شوہر موسی

الیاسف اس قرئیے میں آخری آدمی تھا، اس نے عہد کیا تھا کہ معبودی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا اور اس نے آدمی

”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس تھوڑی ہی دیر کیلئے زمین کا دل کانپا تھا اور پھر اسکا سینہ چھلنی ہوتا چلا گیا۔ فضا بے بسی سے زمین کو کٹتے دیکھنے لگی۔ آگ اور دھویں کا ایک طوفان تھا جو

علی کی پلکوں پر ٹھہرا ہوا آنسو کچھ دیر تک تو لرزتا اور کانپتا رہا مگر پھر جونہی فاطمہ کی نمکین مسکراہٹ اس سے بہہ کر علی کے دل میں جذب ہوئی تو پھر وہ اپنا

دھوپ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی۔ چار دنوں کی مسلسل بارش کیبعد اب جو دھوپ نکلی تو محلے کے بچے اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ گھر کی عورتوں نے موقع کو غنیمت جانا اور

انسان جسطرح سوچتا ہے اگر ٹھیک اسی کی سوچ کے مطابق زندگی میں سب کچھ چلنے لگے تو پھر انسانی زندگی سے تمام مصائب و آلام کا پوری طرح خاتمہ ہو جائے اور انسان کسی طرح

باہر کے شیطان خرابی سی کر جاتے ہیں ورنہ ہر انسان کی فطرت نوری ہوتی ہے مسز توصیف انور میری دور کی رشتہ دار ہیں، بس نام کا رشتہ ہے البتہ انکے شوہر انور صاحب سے

اسلم کے گھر سے خوب مار دھاڑ اور چیخوں کی ملی جلی آوازیں آ رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کسی کو شدید مار ماری جا رہی ہے۔ آوازوں سے ایسا لگ رہا تھا

” کوئی مجھے دو گھونٹ پلا دے۔ ارے کوئی جو میری کروٹ بدل دے جسم دکھ رہا ہے۔ اللہ کا واسطہ کوئی مجھے ایک روٹی کا ٹکڑا دے دے۔” ایسی آوازیں اماں جنت کی گلی سے

شاکر نے خود کشی کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ وہ شہر سے کچھ دورلکھن سے کانپور جانے والی ریل کی پٹری پر چلا جا رہا تھا۔ آس پاس سے کئی ٹرینیں گزر چکی تھیں۔ کو