وہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئے

وہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئے وہ کون لوگ تھے جو اپنے گھر بھی بھول گئے یہ کیسی قوتِ پرواز ڈر نے پیدا کی پرندے اڑتے ہوئے اپنے پر بھی بھول گئے

وصال رُت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں

اک برس کے عرصے میں چار چھ ملاقاتیں شام کی حویلی میں صبح کے مہکنے کی بے یقین سی باتیں کچھ عذاب ماضی کے گفتگو کا موضوع تھے کچھ سوال خوابوں کے کچھ جواب آنکھوں کے

ہوا کو خوشبو کو ساتھ رکھنا جو آ گیا ہے اب اس کی مرضی کہیں بھی ٹھہرے کسی بھی در سے بغیر دستک ، بغیر آہٹ خاموشیوں کا لباس پہنے فصیل بینائی کی حدود سے اداس

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھائوں میں رہنا تھا کس دل میں اترنا تھا چمکنا تھا کن آنکھوں میں کہاں پر پھول بننا تھا تو کب خوشو کیصورت کوئےجاناں سے گزرنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں

صبح نہیں ہو گی کبھی، دل میں بٹھا لے تو بھی خود کو برباد نہ کر جاگنے والے تو بھی میں کہاں تک تری یادوں کے تعاقب میں رہوں میں جو گم ہوں تو کبھی میرا

نجانےکن غم کے جگنوئوں کو چھپائے پھرتی ہے مٹھیوںمیں کئی دنوں سے اداس رہتی ہے ایک لڑکی سہیلیوں میں کبھی تویوں ہومحبتوں کی مٹھاس لہجوں میں گھول دیکھیں گزرتی جاتی ہے عمر ساری اداس باتوں کی

نہ کوئی خواب نہ سہیلی تھی اس محبت میں، میں اکیلی تھی عشق میں تم کہاں کے سچے تھے جو اذیت تھی ہم نے جھیلی تھی یاد اب کچھ نہیں رہا لیکن ایک دریا تھا یا