شعور و فکر میں جب روشنی نظر آئی

شعور و فکر میں جب روشنی نظر آئی نگاہ عشق میں دنیا مجھے نظر آئی یہ میرے عشق کے جذبات کا نتیجہ ہے کہا تھا اس نے نہ آﺅ گی میں مگر آئی کسی بھی شکوہ

ہمارے دل ،ہمارے لب فدا ہوں ،شاہ ِ دوراں پر بڑے احساں ہیں ،اس انسانِ کامل کے ہر انساں پر شہہ والا کا دیوانہ ہوں ،یہ اعزاز کیا کم ہے محبت ناز کرتی ہے مرے چاکِ

یاد کرتے رہے یاد آتے رہے ہم تمھیں بے سبب گنگناتے رہے نیند آئی نہیں پھر ہمیں رات بھر دیر تک خود کو ہم تھپ تھپاتے رہے ہر جگہ منتیں مانگتے ہی رہے ہم تیرے نام

دولت کے انبار کے پیچھے عصمت کی غبار کے پیچھے کئی نقاب پوش ہیں چہرے شہرت کے بازار کے پیچھے کئی عفونت زدہ مشاہیر سرائیت خوشبودار کے پیچھے ظاہر تو سرشک ہیں بہتے ہنستے ہیں رخسار

پوچھتے ہو یہ وبا کیا ھے آو بتاوں یہ ہوا کیا ھے ۔۔ دنیا کو جہنم بنانے لگے تھے دن رات ستم ڈھانے لگے تھے کہیں آگ بازاروں میں لگائی تھی کہیں مسجد تم نے ڈھائی

سایہ فگن ہوا پھر رمضان کا مہینہ کہتے اسے کبھی ہیں قرآن کا مہینہ آیا ہے زندگی کی لے کر نئی بہاریں فرمان رب کے سائے میں اسے گزاریں فرمان رب کو پھر سے سینے میں

موت کا شکاری جیسے گھات میں ہے لگ چکا لے گیا اڑا کے جو بھی ہاتھ اسکے لگ چکا خواب ہیں سمٹ گئے ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہر امید چھپ گئی ہر ترقی رک گئی بے

رمضان آ گیا رمضان آگیا رمضان آ گیا رمضان آگیا مہمان آگیا مہمان آگیا رمضان آگیا رمضان آگیا دیکھا جو چاند چل دیئےتراویح کے لیئے سحری کے انتظام اور تسبیح کے لیئے سارے مہینوں کا سلطان

ماہ صیام آیا رب کا پیام لایا روزہ رکھا سبھوں نے بچوں نے بزرگوں نے ہے ماہ برکتوں کا ایماں کی رفعتوں کا رحمت کا مغفرت کا معافی کی معصیت کا قرآن جس میں اترا انعام

قریہ قریہ گاؤں قصبہ شہر کا ہر شہر آج بن گیا سارا وطن ہے اب سراپا احتجاج مرد و عورت ہوں کہ ہمارے دیش کے پیر و جوان ہے یہی ایک آرزو قائم کریں امن و

ابھی مایوس مت ہونا نہ تم یوں حوصلہ ہارو ابھی تو سحر ہونی ہے اندھیروں کو بھی چھٹنا ہے ابھی تو جنگ جاری ہے ابھی یہ سوچنا کیسا اگر ہم ہار جائیں تو ہمارا کیا بنے

ہمیں یقیں ہے مصائب یہ ٹل ہی جائیں گے جو گررہے ہیں تو اِک دن سنبھل ہی جائیں گے یہ وقت سب پہ کڑا ہے مگربہ فیضِ حرفِ دعا سکوتِ مرگ کے سائے بھی ڈھل ہی

موت کا شکاری جیسے گھات میں ہے لگ چکا لے گیا اڑا کے جو بھی ہاتھ اسکے لگ چکا خواب ہیں سمٹ گئے ٹکڑیوں میں بٹ گئے ہر امید چھپ گئی ہر ترقی رک گئی بے

اے ملک فرانس ہم تیرے مشکور رہینگے تجھ سے نہ جدائی کبھی منظور کرینگے زرخیر زمیں تیری یہ میدان یہ کہسار لوگوں نے تیرے ہمکو دیا ہے بہت ہی پیار اے فرانس تو ہے آج میری

سانحہ وادی نیلم تو سنو غمزدہ اک کہانی تو سنو کبھی کلسٹر بم کبھی گولے کہیں آگ تو کہیں شعلے کبھی ندی میں طغیانی ہے کبھی گرتا تودہ برفانی ہے نجانے یہ کیسی آفات ہیں جو