دنیا میں مدت حیات 7000 سال ہوتی ہے۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھ احادیث میں جنکو امام سیوتی نے نقل کیا ہے جو کہ اپنے وقت کے ایک عظیم محدث گذرے ہیں، یہ بتایا گیا ہے کہ زمین پر مدت حیات

’’قوم لوط نے (ان کی) تنبیہ کو جھٹلایا ۔ ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا ان پر بھیج دی (جس نے انہیں تباہ کردیا)، صرف لوطؑ کے گھر والے اس سے محفوظ رہے، جنہیں ہم نے

فری میسنری جو ایک دجالی نظام ہے جس نے دنیا میں شر انگیزی کا ایک گھناوُنا کھیل کھیل رکھا ہے۔اس نے عیسائیوں کی نظر میں مسلمانوں کو دجال کا ماننے والا ظاہر کرنے کی کوشش کی

ہمارے نظام کائنات میں موجود جانور بالخصوص اپنی جسمانی ساخت کی وجہ سے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرواتے ہیں۔ چیتا ایک مکمل ہڈیوں اور بافتوں کے نظام کا مالک ہے تاکہ سبک روی سے دوڑ

سورۃ البقرہ کی26ویں آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے: ’’اللہ اس سے ہرگز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی مثالیں دے۔ جو لوگ حق بات کو قبول کرنے

ارتقاء کے حامی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جاندار چیزیں بے جا ن مادے سے ازخود وجود میں آئیں، جبکہ یہ ایک بے بنیاد واہمہ ہے جو حیاتیات(Biology) کے تمام قوانین کے منافی ہے۔ ڈارون کے

ہوا ، پانی، پہاڑ، جانور، پودے، آپکا جسم، وہ کرسی جس پر آپ بیٹھے ہیں غرضیکہ ہر ہلکی سے ہلکی اور بھاری سے بھاری چیز جسکو آپ دیکھ سکتے ہیں اور چھو سکتے ہیں ایٹموں سے

خیرالقرون اور خلفاے راشدین کے ادوار میں کسی مذہب کی کوئی ضرورت نہ تھی کیوں کہ اس وقت لوگ براہِ راست معلم کائنات۔صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور صحابہ کرام سے اپنی تشنگی علم بجھالیاکرتے تھے۔ غیر

قرآن آخری آسمانی کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انساں کی رشدوہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔ اس میں ہرچیزکاکھلابیان ہے نیز انسان کو راہِ راست پرلگانے کی جملہ ہدایات اس کے اندرمضمرہیں۔قرآن کی بہت

میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جاتاہوں،اگراُن پرثابت قدم رہوگے توگمراہی کبھی تمہارے قریب بھٹکنے نہ پائے گی۔ایک کتاب اللہ اوردوسری میری سنت۔ (الحاکم) اللہ تعالیٰ آیت کریمہ میں فرماتاہے : الیَومَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ

حقیقت میں ہم خواب میں کسی سے بات نہیں کرتے ہیں۔ہم کسی کو دیکھتے نہیں ہیں ہماری آنکھیں بند ہوتی ہیں۔نہ ہم بھاگتے ہیں اور نہ چلتے ہیں۔ کوئی بھوت ہمیں ڈراتا نہیں ہے اور نہ

سورۃ انّساء ۱۳۵ اے ایمان والو عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لئے سچّی گواہی دینے والے بن جاوَ، گو وہ تمھارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ

سورۃ النساء ۱۷۱ – ۱۷۲ اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاوَ اور اللہ پر بجز حق کے اور کچھ نہ کہو، مسیح عیسٰی بن مریم تو صرف اللہ تعالیٰ