شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالب

شب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا تا محیطِ بادہ صورت خانہ خمیازہ تھا یک قدم وحشت سے درسِ دفتر امکاں کھلا جادہ، اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا مانعِ وحشت خرامیہائے لیلے کون ہے؟

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا کاد کادِ سخت جانیہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا جذبہ بے اختیار شوق دیکھا

منظور ہے گزارشِ احوال واقعی اپنا بیانِ حسن طبیعت نہیں مجھے سو پشت سے ہے پیشہ آبا سپہ گری کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے آزاد رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل ہر گز

مدت ہوئی یار کو مہماں کیے ہوئے جوش قدح سے بزمِ چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو عرصہ ہوا ہے دعوت مثرگاں کیے ہوئے پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں خیاباں خیابان ارم دیکھتے ہیں دل آشفتگاں خال کنج دہن کے سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں ترے سرو قامت سے اک قد آدم قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الہٰی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم،