اسے روکتے بھی تو کس لیے؟

وہ جو شہر دل تھا اجڑ گیا وہ جو خواب تھا بکھر گیا کبھی موسموں کی نظر لگی کبھی واہموں نے ڈرا دیا کبھی منزلوں کے سراب نے ہمیں راستے میں دغا دیا کبھی زندگی کی

وفا جب مصلحت کی شال اوڑھے سرد رت کا روپ دھارے دل کے آنگن میں اترتی ہے تو پلکوں پر ستاروں کی دھنک مسکانے لگتی ہے کبھی خوابوں کے ان چھوئے ہیولوں سے بھی ان دیکھی

اسے لوح دل پر لکھا تو ہے بڑی شان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑے مان سے تو یہ سوچ گہری سی کس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ یہ عدو ہے دل کے سوال کی یہ کڑی ہے اصل زوال کی ہوں کہن

لہو لہو سے گلابوں کی داستاں دیکھو ہوئے ہیں قتل بہاروں میں گلستاں دیکھو سوئے فلک تو سدا دیکھتے ہی رہتے ہو کبھی تو پلکوں پہ بکھری یہ کہکشاں دیکھو کسی نے دل لگی، دل کی

اگر بہاروں نے مجھ سے پوچھا چمکتے تاروں نے مجھ سے پوچھا بتائو حسن جہاں کہاں ہے؟ تو برملا میں کہوں گی ان سے تمہیں وہ میری نظر سے دیکھیں تمہارے جیسا کوئی نہیں ہے جو

اس گلی کا نشاں ملے نہ ملے پھر سے وہ جان جاں ملے نہ ملے نین گویا، تھی مہر ہونٹوں پر پیار کا وہ سماں ملے نہ ملے خود کو ہم حالِ دل سنا ڈالیں کیا

ہو سکتا ہے مجھ سے بچھڑ کر وہ بھی کچھ کچھ پچھتاتا ہو سنگ سنگ بیتا ہر اک لمحہ اس کو بھی تو یاد آتا ہو لیکن بیچ خلیج انا کی روک رہی ہو رستہ اس

کھیلتے کھیلتے دونوں میں سے ایک نے دوجے کی گڑیا کی نوچ لیں آنکھیں لڑکی چیخی دیکھو، تم نے میری گڑیا اندھی کر دی اب سپنے کیسے دیکھے گی؟ لڑکا نادم ہو کر بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں جب

ہے وہی آسماں، زمین وہی ماہ و انجم اسی طرح روشن کہکشاں اب بھی مسکراتی ہے پھول کلیاں مہک رہی ہیں یونہی بعد مدت کے سارے پردیسی اپنے اپنے گھروں کو آئے ہیں ہر طرف رنگ

دل میں پھر درد ہوا دیر تلک نہ ملی اس کو دوا دیر تلک میں نے خوشبو کی حقیقت پوچھی پھول خاموش رہا دیر تلک تم نے تو صرف سنا ہی ہو گا میں نے جو

کسی بھی لمحے، کوئی بھی دھیان میں آ سکتا ہے کسی کی باتیں، کسی کا چہرہ کسی کا دھیما دھیما لہجہ کوئی بھی اپنا یا بیگانہ سوچے بنا، بس بے دھیانی میں نا دانستہ ادھر ادھر

دھوپ اور چھائوں کے نظارے تھے دل کی دولت جہاں پہ ہارے تھے بے وفائی کا اب گلہ کیسا آپ پہلے بھی کب ہمارے تھے میری آنکھوں میں پھیلتے ہوئے رنگ کل تلک آپ کو بھی

چاند نے بادل اوڑھ لیا تھا اک شب تاروں کے جھرمٹ سے چاند اتر کر چھت پر آیا ہولے سے پھر مجھ سے بولا حیراں حیراں سی آنکھوں سے آئو مجھ کو بڑھ کر چھو لو

تو نے اک روز کہا تھا مجھ سے دور تجھ سے میں اگر ہو جائوں جال دنیا کا ہے رنگین و حسیں اس کے رنگوں میں اگر کھو جائوں تیری معصوم سی ان باتوں کو شوخ

بدلی بدلی سی فضا لگتی ہے ساری دنیا ہی خفا لگتی ہے دل کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا تیرے قدموں کی صدا لگتی ہے سینکڑوں چھید ہیں اس میں لیکن کتنی اچھی یہ ردا لگتی ہے

ایک چیخ ابھی تک باقی ہے تم سات سمندر پار گئے تو ایسا لگا کہ ساتوں صدیاں بیت گئیں آ آ کر موسم ملنے کے بالآخر تھک کر لوٹ گئے کچھ، لوگوں نے نشتر اگلے کچھ

اس نے پوچھا ربط بہم کی کوئی صورت میں نے کہا، تم فون بھی کر سکتے ہو مجھ کو لکھنا چاہو تو خط لکھ لو وقت اگر مل جائے تو، مل لینا آ کر بولا، چھٹی

آج پھر باد بہاراں نے مرے کانوں میں چپکے چپکے سے ترے آنے کا پوچھا مجھ سے پوچھا، سندیسہ کوئی،چٹھی کوئی آئی ہے؟ گنگناتے ہوئے جھرنوں نے ذرا تھم تھم کے پوچھا ساجن کی خبر بولو