محبت ہو ہی جاتی ہے

محبت کی نہیں جاتی محبت ہو ہی جاتی ہے دیارِ عشق میں کاٹی لمبی زندگی ہم نے ہزاروں عاشقوں سے دوبہ دو یہ گفتگو کی ہے ہر اک عاشق نے سمجھایا ہمارے تجربے نے ہم کو

ہم جب بھی تنہا گھر گئے سائے سے اپنے ڈر گئے تیری جدائی سے صنم ہم جیتے جی ہی مر گئے سنتے ہی ذکر کربلا آنکھوں میں آنسو بھر گئے نہ پیار ہم کو مل سکا

مجھکو معصومیت کا صلہ مل گیا وہ جو بچھڑا کوئی دوسرا مل گیا ہے مقدر بھی پتھر کی جیسے لکیر ہم نے چاہا تھا کیا اور کیا مل گیا دل میں مرنے کی خواہش نہیں اب

ایک دریا تھا اور کنارہ تھا میرا گائوں بہت ہی پیارا تھا چھت ٹپکتی تھی بارشوں میں کبھی گھر تھا کچا مگر ہمارا تھا ہاتھ سر پر کسی کا ہونے سے دل کو ڈھارس سی تھی

جاگتے جاگتے رات ڈھل جائیگی زندگی ایک دن رُخ بدل جائیگی پیار کے چند لمحوں میں کیا خبر تھی بات سوچوں سے آگے نکل جائیگی ہے غریبوں کی بچی نہ گڑیا دیکھی نہ سمجھ ہے بیچاری

چمپئی رنگ اور سیاہ آنکھیں کر نہ ڈالیں ہمیں تباہ آنکھیں چھوڑ دیں کاروبارِ دنیا پھر ہم کو دے دیں اگر پناہ آنکھیں مل گئیں ہم سے ایک بار اگر جان لیں گی خدا گواہ آنکھیں

دوست ہی کیا سدا رہیں گے ہم بات کچھ تو بڑھائیے صاحب ہو گیا جو لکھا تھا قسمت میں کاہے آنسو بہائیے صاحب پاس آ جائیے خدا کے لیے دل نہیں اب جلائیے صاحب بھوک تو