فورتھ شیڈول کا غلط استعمال

Islamabad High Court

Islamabad High Court

تحریر : مفتی خالد محمود ازھر
وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف مساجد سے وابستہ لوگوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال رہی ہیں آج تک کسی شرابی، چرسی اور جوئے، فحاشی کے اڈے چلانے والے کا نام فورتھ شیڈول میں نہیں ڈالا گیا اس ملک کو اسلامی جمہوریہ کہتے ہوئے بھی اب تو شرم آتی ہے یہ ریمارکس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 10 جنوری 2017 کو لال مسجد اسلام آباد کے خادم منظور حسین کی درخواست کی سماعت کے دوران دیئے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق لال مسجد اسلام آباد کے خادم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی کہ اٹک پولیس نے اس کا نام بلاوجہ فورتھ شیڈول میں ڈالا اور اسے بلاجواز تنگ کر رہی ہے جس پر فاضل عدالت نے متعلقہ افسران کو طلب کیا دوران سماعت متعلقہ افسران عدالت کو مطمئن نہ کرسکے جس پر فاضل جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مساجد کے خادم اور مئوذنوں کااس قوم پر جو احسان ہے اس کا بدلہ پوری قوم مل کر بھی نہیں دے سکتی یہ لوگ میرے اور آپ کیلئے مساجد کا فرش اور بیت الخلاء صاف کرتے ہیں ایسے لوگوں کا نام بلاوجہ فورتھ شیڈول میں ڈالا جا رہا ہے جن لوگوں کو فورتھ شیڈول میں ہونا چاہئے ان پر ہاتھ ڈالنے کی آپ کو ہمت نہیں ہوتی بلکہ وہ لوگ آپ کی حفاظت میں گھومتے ہیں۔ فاضل عدالت نے منظور حسین کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے ،شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم جاری کیااگر اس فیصلہ پر عملدرآمد ہوجائے تو یہ تاریخی فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ قبل ازیں مختلف عدالتوں سے ایسے احکامات جاری ہوئے تاہم متاثرہ افراد کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا البتہ فاضل جج صاحب نے جو ریمارکس دیئے وہ حقیقت پر مبنی اور سو فیصد درست ہیں۔

منظور حسین کی طرح مساجداور مدارس سے وابستہ ہزاروں لوگ سالہا سال سے بلاوجہ فورتھ شیڈول کی زد میں ذلت وخواری کی زندگی بسر کر رہے ہیں جب کہ سماج دشمن عناصر دندناتے پھرتے ہیں۔ فاضل جج نے بجا فرمایا کہ آج تک کسی شرابی چرسی جوئے اور فحاشی کے اڈے چلانے والے کو فورتھ شیڈول میں نہیں ڈالا گیاسماج دشمن عناصر کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی بجائے پروٹوکول دیا جاتا ہے حالانکہ فورتھ شیڈول ان پر لاگو ہوتا ہے جو چور، ڈاکو، لٹیر،ا شرابی، چرسی، آوارہ، زانی اور قاتل ہو مگر یہاں شراب ،چرس بھنگ کے پرمٹ جاری ہوتے ہیں فحاشی کے اڈوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور قاتلوں کو کسی کمیشن میں قاتل قرار نہیں دیا جاتا محض چوری بھی فورتھ شیڈول کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ چوری ،ڈکیتی، قتل جیسے سنگین الزامات تو حکمرانوں پر بھی ہیں مگر” ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ”لہذا یہ بالادست طبقہ بچ جاتا ہے اور قانون قانونی اور غیر قانونی طور پر کمزوروں پر لگ جا تا ہے یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان میں آج تک اکثر چیزوں کی تعریف واضح نہیں فرقہ واریت دہشتگردی کا مفہوم آج تک وضاحت طلب ہے اور یہ وضاحت اس لئے بھی نہیں کی جاتی کہ وضاحت کے بعد اندھی لاٹھی کا سسٹم نہیں چلے گا اسی طرح فورتھ شیڈول کی تعریف میں بھی یکجائیت نہیں ہے کیونکہ جس دن اس کی مکمل وضاحت ہوگئی تو یہ نام نہاد اشرافیہ سب فورتھ شیڈول کی زد میں ہوگا۔

فی الوقت اتنا سمجھ میں آتا ہے کہ انگریز نے جرائم پیشہ عناصر کو کنٹرول کرنے کیلئے ایک ضابطہ تیار کیا جس کو بستہ الف اور بستہ ب کا نام دیا گیا بستہ سے مراد رجسٹر ہوتا تھا۔ الف اور ب کے نام سے دو رجسٹر ہر تھانے میں رکھے گئے ان رجسٹروں میں سماج دشمن عناصر، چوروں ،ڈاکوؤں، زانیوں، شرابیوں، قاتلوں کے نام درج کیئے گئے جرم کی نوعیت کی وجہ سے بستہ بدل جاتا کبھی بستہ الف والا بستہ ب میں اور کبھی بستہ ب والا بستہ الف میں چلا جاتا۔ بھلے وقتوں میں سماج دشمن عناصر کو بدمعاش کہا جاتا تھا لہذا ان بستوں میں درج لوگ بستہ الف اور بستہ ب کے بدمعاش کہلاتے تھے اور رجسٹر کے اوپر لکھا ہوتا رجسٹر بدمعاشان بستہ الف رجسٹر بدمعاشان بستہ ب۔ ان بدمعاشان کی تصاویر متعلقہ تھانوں میں نمایاں مقامات پر آویزاں ہوتیں علاقے کے ایک سے زائد زمینداروں یا علاقہ نمبردار کی شخصی ضمانت ان لوگوں کی آزادی کا پروانہ ہوتی اور یہ لوگ ہر وقت شخصی ضمانت پر ہوتے جس وقت متعلقہ افسر چاہتا ان کو لاک اپ کر دیتا یہ لوگ اپنے علاقے سے باہر جانے کیلئے پیشگی اجازت اور تھانے میں باقاعدہ حاضری کے پابند ہوتے پبلک مقامات میلے ٹھیلے میں جانا انکے لئے ممنوع تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ ابتداً بدمعاش نہیں ہوتے تھے علاقے کے وڈیرے اور ڈیرے دار یا ان کی اولادیں جرائم کا ارتکاب کرتیں جب کسی بھی طرح پردہ پوشی ممکن نہ رہتی تو رعایا جو عام طورپر وڈیروں کے کمی ہوتے اور بظاہر نچلی ذات کے لوگ ہوتے تھے ان میں سے کسی کو تیار کرکے اسے بطور ملزم پیش کیا جاتا اور وہ ملزم یہ الزامات بخوشی قبول کرلیتا آپ آج بھی جرائم کا ریکارڈ چیک کرلیں آپکو خطرناک اشتہاری ملزمان اسی طبقہ سے نظر آئیں گے۔

Fourth Schedule

Fourth Schedule

جب ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو یہ بستہ الف بستہ ب کی اصطلاح رائج تھی اور بدمعاشان بستہ الف اور بستہ ب موجود تھے نائن الیون کے بعد زمانہ شریف بھی ہوگیا اور باشعور بھی تعلیم عام ہونے کے بعدقدریں بھی بدل گئیں اور فرسودہ اصطلاحات کو بھی بدل دیاگیا۔ چنانچہ پینٹاگون کی ہدایات کے مطابق بستہ الف اور بستہ ب کی ڈینٹنگ پینٹنگ کرکے فورتھ شیڈول کے مہذب نام سے منظر عام پر لایا گیااوربستہ الف اور بستہ ب کے تمام شرائط وقواعد و ضوابط فورتھ شیڈول میں شامل افراد پر لاگو کئے گئے۔ ابتدائی طور ان لوگوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا جو افغان جہاد میں شریک تھے مگر ان کا تعلق درجہ چہارم سے تھا درجہ اول دوم سوم کا نام فورتھ شیڈول میں نہیںڈالا گیا۔ مثلاً افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف پاکستان نے بطور ریاست حصہ لیا اور ریاستی اداروں کی مکمل سرپرستی میں اعلان جہاد کیا گیا بھولے بھالے نوجوانوں کو ترغیبات دیکر سرحد پار جنگ میں جھونکا گیا مگر اس جہاد کا اعلان کرنے والے راہ ہموار کرنے والے تربیت دینے والے سرپرستی کرنے والے لوگ بالکل ایک طرف چلے گئے انکے بارے میں تاریخ خاموش ہے لیکن غریب بے بس و بے کس نوجوان تختہ مشق بنااور افغان ٹرینڈ بوائے ا (اے ٹی بی)کے نام پر فورتھ شیڈول کا نشانہ بنا دوسرے مرحلے میں کالعدم تنظیموں کے سرگرم کارکن فورتھ شیڈول کی زد میں آئے اور پھرکھلی کشتی شروع ہوئی تو جو سامنے آتا گیا تختہ مشق بنتا گیا۔ اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ آئمہ مساجد ،خطباء ،اساتذہ اور مساجد کے خدام و مئوذنین تک فورتھ شیڈول کی زد میں ہیں اور کسی کا پرسان حال کوئی نہیں۔

پھر ستم بالائے ستم یہ کہ افغان جہاد میں درجنوں تنظیموں کو جھونکا گیا اسی طرح پانچ درجن سے زائد تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا مگر فورتھ شیڈول کی آزمائش ایک ہی مکتب فکر کے لوگوں پر کی گئی کہیں کہیں آٹے میں نمک کے برابر کسی دوسرے مکتب فکر کے ایک آدھ بندے کو لیا گیا ضابطے کے مطابق فورتھ شیڈول دو سال کیلئے لاگو ہوتا ہے لیکن بارہ بارہ سال سے لوگ ذلت وخواری کی زندگی بسر کر رہے ہیں ساٹھ سال سے زائد عمر کے بزرگ اس مرحلے سے گذر رہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک فورتھ شیڈول ہی تھا مگر جن لوگوں پر کچھ لوگوں کی نظر انتخاب تھی اور وہ کسی طرح فورتھ شیڈول کے شکنجے میں نہیں آرہے تھے ان کے لئے ”ان لینڈ ٹرینڈ بوائے ”کی اصطلاح وضع کرکے انکو بھی وسیع نیٹ ورک میں شامل کرلیا گیاجبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت عزیز کے ریمارکس کے مطابق کسی شرابی، چرسی، جوئے اور فحاشی کے اڈے چلانے والے کو فورتھ شیڈول میں میں نہیں ڈالا گیا اور شاید ڈالا بھی نہیں جائے گا۔

کیونکہ نائن الیون کے بعد اصطلاحات بدل گئیں اقدار بدل گئیں محاورے بدل گئے مزاج بدل گئے ضروت اس امر کی ہے کہ فورتھ شیڈول اور” ان لینڈ ٹرینڈ بوائے ”اور دیگر لسٹوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے جو لوگ کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں اور جنکی مذہبی سیاسی سرگرمیاں دائرہ امن وقانون میں ہیں انہیں فی الفور ایسی لسٹوں سے نکالا جائے اور جن لوگوں پر قتل ،اقدام قتل، چوری، ڈکیتی ،زناکاری، لوٹ مار کے الزامات ہیں انہیں فورتھ شیڈول میں ڈالا جائے اسی طرح ان لسٹوں میں لوگوں کے نام بلاتفریق فرقہ و مسلک بلاتمیز رنگ ونسل ڈالے جائیں تاکہ مساوات اور انصاف کا بول بالا ہو۔

Mufti Khalid Mahmood

Mufti Khalid Mahmood

تحریر : مفتی خالد محمود ازھر
جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام (پنجاب )
0300-6381330