آزادی عورت کا اگلا قدم

Woman

Woman

تحریر : محمد امجد خان
ایک وقت تھا جب کسان بیلوں سے کھیتوں میں ہل چلاتے اور خواتین ڈول ورسی کے ساتھ کنوئو ں سے پانی نکالا کرتی تھیں یہ بہت مشقت طلب دور تھا مگر ہر طبقہ کا ہر فرد بہت خوش تھا ،اِس وقت کے مرد دِن بھر کے کام کاج کرتے اور شام کو بوریت دور کرنے کیلئے رات گئے تک محفلوں میں بیٹھتے جبکہ خواتین دیوا (کینڈل)جلا ئے سہیلیوں کے ہمرا چرخا چلاتیں یا سلائی کڑھائی کرتیں اورجوں ہی مردوں کے گھروں کو لوٹنے کا وقت ہوتا یہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتیں،اِس زمانہ میں جہیز کم لانے پر بیوی کے قتل کی خبر یا شوہر کے گھر دیر سے آنے پر طلاق کا مطالبہ بہت کم سننے کو مِلتا تھا اِس دور میں بیٹی کی پیدائش پر عورت کو قتل کیا جاتا تھا نہ آشنا سے مِل کر شوہر کے قتل کی آواز ہی جلد سنائی دیتی تھی ،یہ بات 90سالہ اماں رانی ٹی وی پر چلنے والی شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کی خبر دیکھ کرجب اپنی پوتی کو بتا رہی ہوتی ہے تو موجودہ دور سے انتہائی خائف پوتی حیرانی سے پوچھتی ہے کہ اماں جان ایسا کیسے ممکن تھا

آج اتنے فسادات کیوں ہیں ؟جواب میں اماں جان کہتی ہیں کہ زمانہ قدیم میں مرد اور عورت کے درمیان ایک قدرتی توازن برقرار تھا، جو کہ آج نہیں ہے ،پوتی پھِر پوچھتی ہے کہ اماں جان کیسا توازن جو آج نہیں ہے ؟،یہ سُن کر اماں جان اِسے تفصیلاً بتاتی ہے کہ زمانہ قدیم جِسے آج کے دور کی جدید خواتین جہالت کا دور قرار دیتی ہیں،اُس دور میں حقوق نسواں یا مرداں کا نام تک کِسی نے نا سُنا تھا اگر تھا تو صرف اور صرف فرائض تھے،جنہیں ہر عورت اپنے ایمان کا حصہ سمجھتی تھی، اورعورت کے اُن فرائض میں صبح شوہر سے پہلے جاگنا،سب سے پہلے نماز پڑھنا اور قرآن کی تلاوت کرنا ،پھِر مرد کے جاگنے سے پہلے پہلے ناشتہ تیار کرکے رکھنا ،بچوں کو سکول یا مدرسہ جانے کیلئے تیار کرنا،شوہر کے واپس آنے تک پورے کا پورا گھر سنبھالنا،بچوں اور شوہر کی صاف صفائی کا خاص خیال رکھنا،شوہر یا بھائی کی غیر موجودگی میں کِسی غیر محرم کو گھر میں داخل نہ ہونے دینا ،

یہاں تک کہ کوئی غیر محرم دروازے پر دستک بھی دے تو اُسے سخت لہجے میں جواب دینا تاکہ اُس کی نیت میں کوئی فطور نہ آئے ،اکیلی گھر سے باہر نہ نکلنا چاہے موت ہی کیوں نہ آجائے ،شدید گرمی ہو یا سردی پردے کا خاص اہتمام کرنایعنی کہ کھُلا دوپٹہ اوڑھناتاکہ کوئی اُس کی جسمانی بناوٹ نہ دیکھ سکے،شوہر کے جذبات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھنا،شوہر کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنااورشوہر کے والدین یعنی کہ سسرال کا احترام کرناوغیرہ بھی عورت کے فرائض میں شامل تھا،جِس کے بدلے مردغیر محرم عورت کی طرف دیکھنے کو جرم کبیرا سمجھتا،اگر دیکھتا بھی پڑے تو خونخوار نگاہوں سے دیکھتایا مخاطب ہوتا، عورت کے ہر قسم کے ناز نخرے اُٹھاتا،عورت کی سختی برداشت کرتا،عورت کی صحت کا ہر لحاظ سے خاص خیال رکھتا،ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز ہر حال میںگھر میں وافر مقدار میں دستا ب کرنا،اُسے وافر جیب خرچ دے کر گھر سے نکلنا،گھر سے نکلتے وقت جہاں جانا چکر دینے کی بجائے وہیں ہی کا درست بتا کر جانا،کہیں لیٹ ہو جانے کی صورت میں ہر حال میں بیوی کو مطلع کرنا،کِسی کے سامنے کِسی بھی قیمت پر بیوی کو نہ ڈانٹنا،حسبِ ضرورت اور حسبِ توفیق بیوی کو شاپنگ کروانا ،اُسے ہر قسم کا میک اپ چاہے اُس پہ پانچ روپے خرچ آئیں یا پانچ لاکھ مگر چار دیواری کے اندر استعمال کرنے کیلئے دستیاب کرناو دیگر ہر قسم کی تزئین وآرائش کا اہتمام کرنا،فارغ وقت میں گھر کے کام کاج میں اُس کا ہاتھ بٹاناوغیرہ اپنے ایمان کا حصہ اور ثواب سمجھتا تھا،جس کے نتیجہ میں کِسی بھی گھر میں کِسی بھی قسم کے کِسی بھی دنگے فساد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا کرتا تھا،

Television

Television

اور اب جب سے گھر گھر ٹیلی ویژن پہنچا ہے تب سے یہ توازن ختم ہوتا جا رہا ہے ،کیونکہ ٹیلی ویژن پہ فرائض کی بات نہیں ہوتی حقوق کی بات ہوتی ہے ،اور صرف اور صرف عورت کے حقوق کی بات ہوتی ،عورت یا مرد کے فرائض کی بات نہیں کی جاتی یہ ہر گزنہیں کہا جاتا کہ عورت کو اللہ ربُ لعزت نے عورت کوباپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک شوہر کا روحانی وجسمانی سکون اورگھر کی زینت بنایا ہے، بلکہ حقوق نسواں کا نام پر اُسے اپنے فرائض بھلاتے ہوئے یہ باور کرایہ جا رہا ہے کہ عورت کو گھر کی نہیںبازار کی زینت بنایا گیا ہے ،عورت کو گھر سنبھالنے کیلئے نہیں کمائی کرنے کیلئے بنایا گیا ہے ،اور عورت کو مرد کی پشت کی محافظ نہیں بلکہ خطروں کی کھلاڑی بنایا گیا ہے لہذا یہ گھر میں رہتے ہوئے چاہے نہائے بھی مہینوں بعد مگر بازار جاتے وقت اِس کا صاف ستھرا ہو نا،کم از کم دو ہزار روپے کا میک اپ کروا نا، آنکھوں میں کاجل لگا نا، انتہائی تنگ قسم کا اُنچے چاکوں والالباس جس میں آدھا پیٹ ننگا رہے

جسم کی پوری بناوٹ واضع طور پر نظر آئے اور انتہائی باریک ہوچاہے سردی سے جان نکل جائے لیکن غیر محرم مردوں سے کچھ چھپا نہ رہے پہن کر جانا اِس کا فرضِ اولین ہے،اور وہ یہ سب دیکھ سُن کرجب ایسا کرتی ہے تو مخالف جنس ہونے کی وجہ سے مردوں کے جذبات میں بھی ایک بھوچال برپا ہوجاتا ہے یعنی کہ توازن میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اوروہ بھی اپنے فرائض سے غافل ہو کر کبھی اِسے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا تے ہیںاورکبھی اِس کے قابو نہ آنے پراِس پرتیزاب پھینک دیتے ہیں توکبھی اسے کِسی دوسرے کے ساتھ دیکھ کر قتل کر دیتے ہیں مختصر یہ کہ چھوٹی چھوٹی باتوںپر لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور نوبت طلاق و قتل وغارت تک پہنچ جاتی ہے ،

جس کی روک تھام آج کی عورت مذید آزادی میں سمجھ رہی ہے مگرآزادی پہلے ہی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور اب اُس کا آزادی کی طرف اُٹھتا ہوا ہر اگلا قدم حقیقت میں بربادی کی طرف رہا ہے،کیونکہ ہر عروج کے بعد زوال کی شروعات قانونِ قدرت ہے جو کبھی نہیں بدل سکتا ،یہ تھیں 90سالہ اماں رانی کی باتیں مگر تھیں اِک کڑوی حقیقت پر مبنی ،لہذا اِس حقیقت کی روشی میں قتل غارت کا واحد حل توازن ہے جو کہ حقوق کی طلبی سے نہیں فرائض کی ادائیگی سے پیدا ہوگا ،اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کو حقوق مانگنے کی بجائے اپنی پاک کلام قرآن مجیدکی روشنی میں اپنے اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا ء فرمائے ،(آمین)۔

Muhammad Amjad Khan

Muhammad Amjad Khan

تحریر : محمد امجد خان