لاہور میں صاف پانی کی فراہمی کا منصوبہ ناکام ہوگیا

Water Plant

Water Plant

لاہور (جیوڈیسک) لاہور میں صاف پانی کی فراہمی مسئلہ بن گئی ، گندہ پانی پینے سے گیسٹرو اور ہیپاٹائٹس اے اور ای جیسی بیماریاں پھیلنے لگیں ۔ ایک عام شہری پہلے ہی خطیر رقم علاج معالجے پر خرچ کرتا ہے۔ یہ ہے تاریخی شہر لاہور جہاں صاف پانی کا دیرینہ مسئلہ تاحال حل طلب ہے ۔ نکاسی ء آب کا نظام ہونے کے باعث صاف پانی کے پائپوں میں گندا پانی داخل ہو جاتا ہے۔

شہر میں پچاس سے ساٹھ مریض گندا پانی پینے سے ہسپتال پہنچ رہے ہیں اور مریضوں کی یہ تعداد بنتی ہے اٹھارہ ہزار سالانہ ۔ طبی ماہرین کہتے ہیں بیماری چھوٹی ہو تو تین سے پانچ ہزار میں جان چھوٹ جاتی ہے ، بیماری وبال جان بن جائے تو صرف ٹیسٹوں کا خرچ ہی پچاس سے ساٹھ ہزار تک جا پہنچتا ہے۔

ایک غریب مزدور ماہانہ 11 ہزار کماتا ہے ، ایسے میں اگر دو بچے بھی بیمار پڑجائیں تو غریب کی آدھی تنخواہ دواؤں اور علاج کی نذر ہو جاتی ہے۔