پارلیمانی جاہل

Democracy

Democracy

تحریر : محمد عرفان چودھری

”اس راز کو اک مردِ فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرزِحکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے”

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال جنہوں نے پاکستان بننے کا خواب دیکھا تھا شائد اُنہوں نے آنے والے دنوں میں پاکستان کی جمہوریت کا جو حال ہونا تھا وہ بھی اُسی وقت دیکھ لیا تھا اس لئے تو پیشگی میں قوم کو فرنگی سے راز لے کر بتا گئے کہ پاکستان کے جمہوری ادوار میں ایسے بھی دور آئیں گے کہ جب پاکستان کے ایوانوں میں ایسے لوگ بیٹھے ہوں گے جن کو اُن کے کردار، اخلاق، تعلیم کو انصاف کے ترازو میں تولنے کی بجائے اُن کی جاگیر، وراثت اور اُن کے زیر اثر لوگوں کی تعداد سے ماپا جائے گا اور جوں جوں وقت گزرتا چلا جا رہا ہے اقبال کی بات پوری ہوتی چلی جا رہی ہے ہو بھی کیوں نہ کہ اقبال ایک دور اندیش درویش تھے بات ہو رہی ہے پاکستان کے ایوانِ بالا کی جس میں لوگوں نے اپنے قیمتی ووٹ دے کر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی چُنے تا کہ اُن کی داد رسی ہو سکے اُن کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے اُن کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے بحث و مباحثے ہو سکیں اور پاکستان کو ترقی کی منازل طے کروانے کے لئے سب ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ چل سکیں مگر یہ کیا ایوان میں ہنگامہ؟ ہنگامے تو جاہل لوگ کرتے ہیں مگر کیا کریں ہماری یا شائد پاکستان کی قسمت ہی ایسی ہے کہ ہمیں ایوان میں جاہل ملے ہوئے ہیں جس کو دیکھو دوسرے پہ الزام تراشی کر رہا ہے۔

کوئی کُرسی کا رونا یوں رو رہا ہے جیسے چھوٹا بچہ چیز نہ ملنے پر ایڑیاں رگڑتا ہے اور ضد کرتا ہے کہ ” مینوں نئیں پتا میں ایہو چیز لینی اے” کوئی دلیل نہیں، کوئی منطق نہیں مُلک میں اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن میں مسئلہ کشمیر سب سے اہم ہے مگر اندرونِ ملک کرسی کرسی کے کھیل میں نہتے کشمیریوں کا حق چھینا جا رہا ہے اُس کی کوئی پرواہ نہیں ، مہنگائی کا اژدھام لوگوں کی زندگیاں نگلتا جا رہا ہے اُس جانب کوئی دھیان نہیں ، قوم کی بیٹیاں غیروں کی باندیاں بنائی ہوئی ہیں کوئی غیرت نہیں ، سرِ عام لوگوں کو لُو ٹا جا رہا ہے کوئی حیرت نہیں، سردیوں میں گیس نہیں ملتی اور گرمیوں میں بجلی مگر کسی ایوانی نمائندے کے سر پر جُوں تک نہیں رینگتی، کوئی دھرنا نہیں، کوئی معطلی نہیں، کوئی اظہارِ یکجہتی نہیں، کوئی محمد بن قاسم نہیں جو للکار سکے ، اغیار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے مطلب ہے تو بس کرسی کا۔

”ہر بندہ ہے آج کل دعویدارکرسی کا
سوتے میں بھی کرتا ہے دیدار کرسی کا
ایوان چاہے ہو جائے تباہ و برباد
عرفان ہر رُکن ہے بس یار کرسی کا”

اس ایوانی کرسی کے چکر میں ارکان اسمبلی اپنی اخلاقیات تک بھول چُکے ہیں یہ بھول چکے ہیں کہ یہ اسمبلیوں میں براجمان کیوں ہیں کبھی خواجہ آصف صاحب کی جانب سے پی ٹی آئی کارکن شیریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کے نام سے پکارا جاتا ہے تو کبھی اُس کے جواب میں شہلا رضا صاحبہ کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ آپ جی ایچ کیو کا دورہ کیا کر آئے ہیں اپنی اوقات ہی بھول گئے ہیںاسی طرح پی ٹی آئی کے نعیم الحق صاحب کی جانب سے خواجہ صاحب کوپچیس جوتے شام اور پچیس جوتے صبح مارنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، کبھی (ن) لیگ کے طلال چودھری صاحب کی جانب سے مزاری صاحبہ کو ” آنٹی” کہا جاتا ہے جس کے جواب میں جناب سپیکر صاحب ” آرڈر آرڈر” کرتے سُنائی دیتے ہیں۔

Parliament

Parliament

حال ہی میں پتافی صاحب کی جانب سے خاتون رکن اسمبلی نصرت سحر کو اپنے چیمبر میں آنے کی آفر دی جاتی ہے جس کے بعد خاتون کی جانب سے پٹرول کی بوتل ہاتھ میں لے کر اپنے آپ کو آگ لگانے کی دھمکی دی جاتی ہے جس پر پتافی کی جانب سے اُس کے سر پر ڈوپٹہ دے کر بہن بنایا جاتا ہے اور معاملہ رفع دفع ہو جاتا ہے مگر اُسی سندھ اسمبلی میں شہلا رضا کی جانب سے ذاتی چیمبر میں مدعو کرنے پر ایوان قہقہوں سے گونج اُٹھتا ہے بس اسی پر اکتفاء نہیں ہماری پارلیمانی جاہلیت بہت وسیع ہے تازہ معاملے میں قومی اسمبلی کے اندر (ن) لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکن و ارکان اسمبلی ایوان کے تقدس کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوئے آپس میں گتھم گتھا ہو گئے جس میں 15 اکتوبر سے معطل رکن اسمبلی شہر یار آفریدی اور شاہد خاقان عباسی پیش پیش رہے جس پر جمشید دستی جلتی پر تیل کا کام کرتے رہے اور بات گالی گلوچ اور مکوں گھونسوں تک پہنچی اور ایوان گوجرانوالہ کے پہلوانوں کا آکھاڑہ بن گیا جس کی باز گشت خیبر پختونخواہ کی اسمبلی تک پہنچ گئی اور وہاں بھی مچھلی منڈی کا منظر پیش ہونے لگا۔

قارئین کرام یہ چند واقعات ہیں اگر سارے واقعات جو کہ ان ایوانوں کے اندر رونما ہوتے رہتے ہیں کی تفصیل شروع کر دی تو باقاعدہ ایک گزٹ شائع کرنا پڑ جائے گااصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم عوام نے ان لوگوں کو اپنے کام کروانے کے لئے چُنا ہے نا کہ اِن کی ذاتی رنجشوں کی بناء پر کرسی کے چکر میں حد سے گری ہوئی کارروائیاں کرنے کے لئے ، سونے پہ سہاگہ کے مصداق اِن ارکان پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جاتی اور صرف اجلاس کو ملتوی کر دیا جاتا ہے دوسری جانب غریب عوام جو کہ روز بروز پستی چلی جا رہی ہے ان کا تماشہ دیکھتی اور اپنے آپ کو کوستی نظر آتی ہے یہاں پر چند گزارشات ان پارلیمانی جاہلوں کے لئے حاضر ہے کہ:جورکن اسمبلی ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہے اُس کی رُکنیت فوراََ ختم کر دی جائے اور اُس کے ذمے جو بھی وزارت ہے اُس کو بھی واپس لے لیا جائے۔

جو رکن اسمبلی ایوان میں حاضری نہیں دیتا اُس کی بھی رُکنیت ختم کر دی جائے اور اُس سے وصول شدہ تنخواہ و دیگر مراعات واپس لے لی جائیں۔

کوئی بھی کیس ایوان میں ہو تو اُس پر جلد از جلد بحث کر کے فیصلہ کر دیا جائے جیسا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہ کے معاملے میں فوراََ عمل در آمد ہو جاتا ہے۔

پولیس کو اختیار دیا جائے کہ وہ کسی بھی رکن اسمبلی کو ہنگامہ کرنے پر گرفتار کر کے قانونی کارروائی کر سکے۔

یہ مُلک عوام کا ہے کسی رکن اسمبلی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے اور یہاں پر صرف اُنہی ارکان کو رہنے کا حق ہے جو عوام کا حق عوام تک پہنچانا جانتا ہو اگر ان ارکان نے پانامے کے ہنگامے میں ہی اُلجھے رہنا ہے تو ان سے درخواست ہے کہ جہاں کایہ معاملہ ہے وہاں جا کر اس کو نمٹایا جائے اور خطوط کے زور پر نہ کوئی بچے گا اور نہ ہی ایڑیاں رگڑنے پر کسی کو کرسی ملے گی!

”حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا مجھے
اک نکتہ کے غلاموں کے لئے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر”

اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ پاکستانی قوم کو اِن جاہل حکمرانوں سے نجات دلائے آمین!

Mohammad Irfan Chaudhry

Mohammad Irfan Chaudhry

تحریر : محمد عرفان چودھری
ڈپٹی سیکریٹری کو آرڈینیشن
پاکستان فیڈرل یُونین آف کالمسٹ
+92-313-4071088