خوشبوئے سخن کی شاعرہ پروین شاکر

Parveen Shakir

Parveen Shakir

تحریر : جاوید اختر جاوید
پروین شاکر ایک صاحبِ طرز شاعرہ تھی یوں لگتا ہے کی اس کی غزلیں اور نظمیں بادل کے ٹکڑوں پر لکھ کر زمین پر اتاری گئیں ہیں اور زمینی حوالہ بن کر تادیر انسانی دل و دماغ کو خوشبوئے سخن سے معطر رکھتی ہیں۔

جب خوشبو کا کوئی جھونکا
جھونک میں آآکر
اس کے لب پرلفظ سجاتاتھا
پھر احساس کے بربط بولتے تھے
اور پھر شعروسخن کی وہ ملکہ
الفاظ کی جوت جگا کر
اور احساس عرفاں میں گم ہو کر
خوشبوئے سخن پھیلاتی تھی

پروین شاکر کے والد کا نام سید ثاقب حسین شاکر تھاجو صوبہ بہار کے ایک ضلع مونگیر کے رہنے والے تھے ۔وہ ہجرت کر کے کراچی آگئے ۔ پروین شاکر نے اسی شہر میں 24نومبر1952ء میں آنکھ کھولی۔رضویہ گرلزہائی سکول سے میٹرک،سرسید کالج سے بی۔اے اور کراچی یونیورسٹی سے ایم۔اے۔انگلش کیاکیرئیر کا آغاز کراچی کے ایک گرلز کالج میں انگریزی کی تدریس سے کیا۔

Parveen Shakir Poetry

Parveen Shakir Poetry

کچھ عرصہ امریکہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیںمقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر اعلی سرکاری ملازمت پر فائز ہوئیں کئی ادبی و سرکاری اعزازات حاصل کیے کالج میں دوران تعلیم 6ستمبر پر پہلی نظم لکھی اور اپنی استاد عرفانہ عزیز سے اصلاح لی۔پہلے مجموعہ کلام خوشبو سے شہرت ملی۔26دسمبر1994ء کو اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک سنگین حادثے میں جاںبحق ہو گئیں۔چار مجموعے یاد گار چھوڑگئیں۔

ان کے کلام سے منتخب اشعارپیشِ خدمت ہیں
وہ تو خوشبو ہے ہواوںمیںبکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
میںسچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جائوں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا
میں جب بھی چاہوںاسے چھو کے دیکھ سکتی ہوں مگروہ شخص کہ لگتا ہے اب بھی خواب ایسا
ہمیں خبر ہے ہوا کا مزاج رکھتے ہو مگریہ کیاکہ ذرادیرکو رکھے بھی نہیں
شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیںبھی مری بھولنے والے میں کب تک تیرارستہ دیکھوں

تحریر : جاوید اختر جاوید