تربت میں ایف سی کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول حملہ، چار ہلاک تین زخمی

Turbat

Turbat

کوئٹہ (جیوڈیسک) بلوچستان میں اتوار کی شام کو تشدد کے تازہ واقعے میں فرنٹیر کور بلوچستان کے چار اہلکار ہلاک اور تین دوسر ے زخمی ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ اطلاعات، آئی ایس پی آر کے مطابق فرنٹیر کور بلوچستان کی کے اہلکاروں کی ایک گاڑی پاک اور ایران کے سرحد کے قریب ضلع تربت کے علاقے گوکھ میں معمول کی گشت پر تھی کہ نا معلوم شرپسندوں کی طرف سے سڑک کے کنارے رکھے گئے خود ساختہ دیسی بم سے گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا، جس سے گاڑی تباہ ہوگئی۔

تفصیل کے مطابق، گاڑی میں سوار چار اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے، ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو تربت کے ضلع ہیڈ کوارٹر اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دو کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیر کور بلوچستان کے حکام نے بتایا ہے کہ واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

واقعہ کی ذمہ داری کالعدم، ‘بلوچستان لبریشن فرنٹ’ نے قبول کر لی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا ءاللہ زہری نے ایف سی اہلکاروں پر بم حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز اور بے گناہ شہریوں پر حملے کرنے والے عناصر کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائیگا۔

یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا کہ صرف ایک روز پہلے کوئٹہ میں صوبائی حکومت کی طرف سے ایک تقریب منعقد کی گئی تھی، جس میں چار سو سے زائد بلوچ عسکریت پسندوں کو ریاست کی عملداری تسلیم کرنے اور تشدد کا راستہ ترک کر نے کا عہد کر تے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

قدرتی وسائل سے مالامال اس جنوب مغربی صوبے میں بعض بلوچ قوم پرست عسکری تنظیمیں صوبے کے ساحل اور قدرتی وسائل پر اختیار کےلئے گزشتہ گزشتہ ایک عشرے سے زائد عرصے سے سیکورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور دوسرے صوبوں سے یہاں محنت و مزدوری کےلئے آنے والے محنت کشوں پر جان لیوا حملے کر رہے ہیں۔

اِن حملوں میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔