وی آئی پی کلچر اور ہماری عوام

VIP Culture

VIP Culture

تحریر : محمد جواد خان
پاکستان میں کچھ عرصہ قبل وی آئی پی کلچر کے خلاف ایک انقلابی ہوا، سورج کی کرنوں کی مانند امنڈ کر سامنے آئی تھی، جس نے بڑے بڑے نام نہاد سیاسی پروٹوکول کو عوام کے سامنے کھل کر بیان کرنا شروع کر دیا تھا، اور عوام کی اس آواز کو بلند کیا کہ خدارا ہمارے اوپر ناجائز ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے بجائے آپ اپنے ناجائز اخراجات کو ختم کریں ، ہم ہی نے آپ کو ووٹ دے کر اپنا لیڈربنایا ہے اور آپ ہم جیسے غریبوں سے دور رہنے کے لیے 50،50 گاڑیوں پر سفر کر کے آتے ہیں اور انتہائی تنگ نظری کے ساتھ ہم سے مصافحہ کرکے صرف فوٹو سیشن اور خانہ پُری کو پر کرنے کے لیے ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہمارے مریض گاڑیوں میں مر رہے ہوتے ہیں، ہمارے بچے سکولوں سے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں، ہم لوگ آفس وغیرہ سے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔بے ہنگم گاڑیوں کی رش میں پھنس کر اکثر لوگ بے ہوش ہو جاتے ہیں۔۔۔ مگر آپ لوگ اپنے ہارن مارتے ، اسلحہ لہراتے ، شاں شاں کرتے قافلے کی سرپرستی کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں جیسے لگتا ہو کہ بادشاہ وقت آرہا ہو۔۔۔ انتہائی معذرت کے ساتھ جمہوری حکومت میں عوام کے ساتھ مل کر چلنا پڑتا ہے۔

مگر اب پاکستان کی عوام اس نظر ِ بد کو تلاش کر رہی ہے جو امیدوں کی چمکتی کرنوں کو لگ گئی اور جس کی بدولت عوام کے وہ خواب چکنا چور ہو گئے جو انھوں نے اس امنڈتی انگلابی لہر کے نتیجہ میں ہونے والے رد عمل کے اوپر لگا رکھی تھیں۔کہ شاید یہ لہر ان کے حالات و معاشیات کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا تھا۔ ہم مسلمان۔۔۔! ہم مسلمان ہیں اور ہمارے اسلاف کی کسی تاریخ میں ہماری شاہانہ زندگی کی مثال نہیں ملتی کہ جنہوں نے عوام کے دکھ درد ، بھوک افلاس، تعلیم و تربیت، صحت و صفائی ، تحفظ و سلامتی اور رزق و روزگار کو چھوڑکر اپنے سر فخر سے اونچا کرنے کے لیے سیکنڑوں کی تعداد میں گاڑیوں کے اند ر سفر کیا ہو ، اور ایک ایک دورے پر درجنوں سٹاف اور دیگر لوازمات کا اہتمام کیا ہو۔

اپنے لیے ایسا شاہانہ گھر بنایا ہو کہ ( جس میں نہ گیس لوڈ شیڈنگ، نہ بجلی کی لوڈشیڈنگ، نہ بل دینے کی لوڈ شیڈنگ، نہ مہنگائی کی کوئی پرواہ، نہ روزگار کا کوئی غم، نہ ٹرانسپورٹ کی تکالیف، نہ گیس و پٹرول پمپ پر لائن بنانے کی ضرورت، نہ آٹے و چینی لینے کے لیے لائنوں کی ضرورت، نہ بم دھماکوں کا ڈراور ایسا پر سکون ماحول کہ جس میں کوئی غم اور کوئی دکھ نہ پہنچ سکتا ہو) جس میں خود تو بریڈ کا ایک پیس کھاتے ہوں اور اس کے اخرات اربوں میں ہوں اورتو اور عوام کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر خود اپنی زندگی مزے سے گزار رہے ہوں۔ آئیے ہم اپنے اسلاف کی طرف چلتے ہیں:۔

ALLAH

ALLAH

ہمارے خلفیہ دوئم حضرت عمر فاورق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دورِ خلافت پو ری دنیا کے لیے حکومت کرنے کے بہترین اصولوں پر مشتمل ہے جس کے اندرحکمرانی کرنے اور عوام سے باخبر رہنے کے تمام تر قوائد و ضوابط بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیے تو گئے ہیں مگر ہم کو ان کو پڑھنے یا ان پر عمل کرنے کی کیا ضرورت کہ ہم ان سے کچھ استفادہ حاصل کر یں ہمیں تو صرف اور صرف اقتدار کی مستی میں مست مولا بنے بیٹھے ہوتے ہیں اور اس کرسی کا ناجائز فائد ہ بعض اوقا ت اس قدر انتہائی شرمناک حد تک اُٹھا تے ہیں کہ انسانیت بھی اپنا منہ چھپاتی پھرتی ہے۔ہمارے خلیفہ 230000مربع میل کی سلطنت کے حکمران تھے اور ان کا پرو ٹوکول اسقد ر شاہانہ تھا کہ خود پٹھے پرانے کپڑے پہنے لگان پکڑے سواری کے آگے چلتے ہوئے نئے علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں۔

ہم ایک ترقی پذیر ملک ، ملکِ پاکستان کے رہنے والے ہیں جس پر ہم کو انتہائی فخر ہے ، ہم اس قوم کے باشندے ہیں کہ جس کی آزادی کو تو 68 سال گزر چکے ہیں مگر اس ملک پاکستان کو ابھی بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے ، جن کے حل کی طرف نہ تو جہ دی جاتی ہے اور نہ ہی حل کرنے کی کوشش۔۔۔۔ مگر ایک کمیٹی ۔۔ایک کابینہ۔۔۔ایک بلڈنگ۔۔۔ ایک وزیر۔۔۔اور ان کے پروٹوکول کے لیے ان گنت گاڑیوں کا بل ضرور پاس ہو جاتا ہے۔

ہر دور، ہر حکومت اور ہر پانچ سالہ میں کوئی بھی دور ایسا نہیں آیا کہ جس میں وی آئی پی کلچر کو ختم کیا گیا ہو ، کبھی کسی نے اندازہ لگایا بھی ہے کہ اس کلچر سے اور ان کے اس شاہانہ انداز سے کس قدر قومی سرمایہ کو نقصان پہنچ رہا ہے باقی عوام کی تکلیفوں کی بات کرنا ہی فضول ہے کیونکہ ہم لائنوں میں کھڑے رہنے کے عادی بن گئے ہیں ، اگر ہم ابھی ان باتوں کو تذکرہ کریں گئے تو ہماری شان کی توہین ہو گی ہم اپنے تمام سیاسی رہنمائوں کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ہم کو اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم پاکستانی باشندے دنیا کے اندرکسی بھی ملک میں کسی بھی قسم کی لائن میں اور سیاسی امیدوں پر نااُمید ہونے میں مار نہیں کھا سکتے ، مگر پھر ہم اگلے ہی لمحے ان ہی کے جلسہ گاہوں میں ان ہی کے حق میں نعرے بلند کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ہم بات کریں کہ ہم ترقی کب کریں گئے۔۔۔۔؟

Mohammad Jawad Khan

Mohammad Jawad Khan

تحریر : محمد جواد خان
mohammadjawadkhan77@gmail.com