مالی سال 14۔2013 کے بجٹ کا حجم 35 کھرب کے لگ بھگ ہوگا

Budget

Budget

مالی سال 14۔2013 کے بجٹ کا حجم 35 کھرب کے لگ بھگ ہوگا۔ رواں مالی سال بجٹ خسارہ 16 کھرب ہونے کا امکان ہے۔ نان ٹیکس آمدنی800 ارب روپے ہوسکتی ہے۔ ٹیکس آمدنی کا ہدف 24 کھرب 75 ارب روپے ہوسکتا ہے۔

آئندہ مالی سال میں معاشی ترقی تھری جی کی نیلامی سے1 ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز، وفاقی وزارتوں کیلئے 278 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز، میڈیکل الانس میں 50 فیصد اضافے کی تجویز، ملازمین کی پنشن پر 162 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز، سود اور قرضوں کی واپسی پر 11 کھرب 49 ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق گریڈ1 سے 15 تک کا میڈیکل الانس 1500 روپے ماہانہ کرنے کا امکان ہے جبکہ کنوینس الانس میں 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ میڈیکل الانس 2008 کی بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد دیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے منگل کو اقتصادی جائرہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی کا بحران ختم کرنے کے لیے گردشی قرضوں کو 60 دنوں میں ختم کیا جائے گا۔ بجلی 6 روپے فی یونٹ مہنگی کرنا پڑے گی لیکن یہ اضافہ اکٹھا نہیں مرحلہ وار کیا جائیگا اور غریب صارفین کا خیال رکھا جائے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں اقتصادی جائرہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی، زرعی اور صنعتی ترقی کے ساتھ سرمایہ کاری اور بچت کے اہداف پورے نہیں ہو سکے ہیں۔ قومی قرضے 135 کھرب روپے تک جاپہنچے۔ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ آئندہ بجٹ میں بوجھ بڑے لوگوں پر ڈال اجائے گا اور غریبوں کا خیال رکھیں گے۔

آئندہ مالی سال عوام کی فلاح کے منصوبوں پر 1155 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ٹیکس کا نظام بہتر بنایا جائے گا۔ جو مہنگائی کریں گا ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ مسابقتی کمیشن کو اپنا کام کرنا ہوگا۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 6 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہ گئے ہیں اور آئندہ مالی سال بیرونی قرضوں کی بھاری ادائیگیاں بھی کرنا ہے۔ اس لیے قرض اتارنے کے لیے قرض لینے میں کوئی ہرج نہیں۔