میمو کیس: بابر اعوان کی پریس کانفرنس پر وزیراعظم کا جواب مسترد

Islamabad

Islamabad

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں میمو کیس کی سماعت ستائیس دسمبر تک ملتوی کر دی گئی، بابر اعوان کی پریس کانفرنس کے حوالے سے وزیراعظم کے جواب کو مسترد کر دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آرمی چیف بیان حلفی کے ساتھ سپریم کورٹ آجائیں تو ہمیں سوچنا پڑے گا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں نو رکنی لارجر بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ دوران سماعت اسحاق ڈار نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میمو کا وجود متنازعہ نہیں، سب جانتے ہیں کہ میمو لکھا گیا، میمو کا حقیقت ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کا دائرہ اختیار محدود ہے، کمیٹی میمو جیسے معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکتی۔ اسحاق ڈار نے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن اور قواعد بھی عدالت میں پیش کئے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ خدشات اور مفروضوں پر مبنی بات نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میمو لکھا گیا یا نہیں، یہ طے ہونا باقی ہے۔ جب تک الزام ثابت نہیں ہو جاتا عدالت کی نظر میں سب معصوم ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں چار قراردادیں منظور ہو چکی ہیں جن پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ اپنا کام کر رہی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم میڈیا کی خبروں پر فیصلے نہیں کرتے۔!!راجہ فاروق حیدر کے وکیل سردار عصمت اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا بیان حلفی اس معدمہ کی عدالت میں سماعت کی معقول وجہ ہے۔ صلاح الدین مینگل نے کہا کہ میمو کے معاملے کی تحقیقات نہ ہوئیں تو ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے معاملے کی خود تحقیقات کیں، انہی تحقیقات کی روشنی میں حکومت نے حسین حقانی سے استعفی لیا۔ انہوں نے کہا کہ حسین حقانی ایک امریکی شہری ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بے بنیاد بات نہ کریں۔
حسین حقانی پاکستانی شہری ہیں۔ جب تک آپ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہو تو کسی پر الزام نہ لگائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آرمی چیف اپنا بیان حلفی لے کر سپریم کورٹ آجائیں تو ہمیں سوچنا پڑے گا۔ عدالت نے بابر اعوان کی پریس کانفرنس کے حوالے سے وزیراعظم کے جواب کو بھی مسترد کر دیا۔ بعد میں سماعت ستائیس دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔