اللہ کے گھر کے مہمان

Umrah

Umrah

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا
ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ پاک کا گھر اور دربار رسالتۖ کی حاضری کا شرف حاصل کرے۔ بے شک یہ سعادت خوش قسمتی سے نصیب ہوتی ہے۔ جب اللہ پاک اپنے گھر کسی کو بلانا چاہتے ہیں تو وہ غائب سے وسائل مہیا کر دیتے ہیں یہی وجہ ہے ہم دیکھتے ہیں بعض سفید پوش جن کے پاس مال و دولت بھی ضرور یات زندگی سے زیادہ نہیں ہوتی ۔اللہ پاک خفیہ طریقے سے مدد فرما کر اپنے پاس بلالیتا ہے۔ذکرواذکار ، محافل نعت اور دیگر اسلامی پروگراموں میں ” عمرہ ٹکٹ اور عمرہ پیکج ” میں بھی خوش نصیبوں کو ” درمصطفےٰ ” میں حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہ بہت بڑی سعادت کی بات ہے کہ اپنے روپے پیسوں ، وقت اور سوچ و بچار کو ” دنیاداری کی بجائے اللہ رسول ۖ ” کے رستہ میں لگانا۔ حج و عمرہ کا مقام عالی شان سمجھنے کیلئے۔۔۔

اللہ پاک کے پیارے محبوب ۖ کا ارشاد گرامی ہے
حج و عمرہ میں متابعت سے فقر وتنگدستی اور گناہوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔(ترمذی: 810، صحیح) جبکہ ایک اور حدیث شریف میں کچھ ایسے ذکر ہوا ہے کہ
حج،گزشتہ تمام گناہ مٹا دیتا ہے۔(مسلم: 121) جبکہ
حج اور عمرہ کرنے والے کی دعاء قبول کی جاتی ہے۔(ابن ماجہ: 2493، حسن)
حج اور عمرہ کی فضیلت بہت بڑی ہے جس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے ، فرمانِ عالی شان سردارالانبیاء حضرت محمد ۖ
حج اور عمرہ کی ادائیگی عورت، کمزور، بوڑھے اور بچے کا جہاد ہے۔(بخاری: 1861، صحیح نسائی: 2463)۔ بخاری شریف میں عمرہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ
رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ملتا ہے۔(بخاری: 1863، مسلم: 1256)ایک اور حدیث شریف یوں بیان ہوا ہے کہ
حج یا عمرہ کے لیے حالتِ سفر میں رہنے والا شخص فوت ہو جائے تو اس کے لیے مکمل اجر لکھا جاتا ہے۔(صحیح الترغیب: 1114)
اسلام میں ثواب کا دارومداد نیت پر منحصر رکھا گیا ہے !

ہمارے اردگرد بہت سارے ایسے مسلمان بھی ہیں جن کو مال و دولت کی فراوانی ، عیش و عشرت کی زندگی اور اس فانی دنیا کی تمام سہولیات میسرہیں مگر اللہ پاک اور پیارے حبیب نبی کریم ۖ کے گھرکا دیدار کرنے کی توفیق نہیں یہ بدنصیبی کے علاوہ اور کچھ نہیں !عاشقان ِ رسول ۖ ماہ رمضان اور ماہ ربیع الاول میں اپنی زندگیاں مکةالمکرمہ اور مدینہ شریف میں بسرکرنا چاہتے ہیں۔

افسوس صد افسو س ! کچھ اہل ایمان ہمارے مسلمان بھائی ایسے بھی ہیں جو عاشقان رسول ۖ کی محبت کا خوب فائدہ اُٹھا تے ہیں جیسا رمضان شریف کے مقدس ماہ کے آتے ہی ضروریات زندگی کی اشیاء کو ” گوداموں میں محض اس لئے اسٹاک کر لیا جاتا ہے تاکہ من مانی قیمتیں وصول کی جائیں ۔ ہمارا یہ وطیرہ بن چکا ہے کوئی بھی اسلامی تہوار ہو عیدوں کے موقع پر بھی مہنگائی کا ” جن ” بوتل سے باہر آکر غریبوں اور سفیدپوشوں کو ”خون کے آنسو ” رلاتا ہے۔ ہم نے ہر معاملے میں یہود و نصریٰ کی پیروری کو کامیابی کا ذریعہ بنا لیا ہے ان کی دیکھا دیکھی ” بلیک فرائی ڈے، ویلنٹائن ڈے وغیرہ منانا شروع کر دیا ہے کاش ہم ان سے کرسمس، ایسٹڑ ڈے وغیرہ کے موقع پر غریبوں اور سفیدپوش طقبے کی ” خوشیاں ” دوبالا کرنے کی حقیقت سمجھ سکتے۔

یہود و نصریٰ اپنے مذہبی دنوں کو منافع کمانے کی بجائے سب کو خوشیوں میں شریک کرنے کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں اور یہودونصریٰ کی تاجربرادی بغیر نفع کے اپنی عوام کو اشیاء مہیا کرتے ہیں مگر ہم ہر معاملے میں یہود نصریٰ کی پیروری کرتے ہیں مگر اپنے اسلامی تہواروں میں قیمتوں میں من مانا اضافہ کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ حج اور عمرہ جیسی عظیم عبادات کے مواقع پر بھی اپنے بھائیوں کو لوٹنے سے باز نہیں آتے ۔اپنے معصوم مسلمانوں کو ” عمرہ پیکج ” دیتے وقت قریب ترین رہائش ، صاف ستھرے کمرے ، تمام سہالیات کے سبز باغ دیکھاتے ہیں ، عموماً تمام عمرہ پیکج میں ”زیارتیں کروانے کی یقین دہانی کروائی جاتی ہیں اور عمرہ پیکج میں اچھی خاصی رقم زیارتوں کے نام پر جمع کی جاتی ہے مگر عملی طور پر پاکستانی مسلمانوں نے اب زیارتیں کروانا بند کر دی ہیں ۔ کچھ بے چارے عمرہ کی سعادت حاصل تو کرتے ہیں مگر زیارتوں سے مستفید نہیں ہوتے اور کچھ لوگ اپنے بل بوتے پر زیارتوں پر حاضری دیتے ہیں ۔ عام آدمی کا وہ پیسہ جو زیارت کے نام پر جمع ہوتا ہے وہ ” ہڑپ ” کر لیا جاتا ہے اگر کوئی اس مسئلے کو اٹھائے تو ” اونٹ کے منہ میں زیرہ” کچھ نہ کچھ واپس کر دیتے ہیں۔

اسی طرح جب ویزہ لگوایا جاتا ہے تو اچھے ہوٹل کا اڈریس دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کو ویڈیوکالنگ کے زریئے ہوٹل ، خانہ خدا ، روزہ ِ رسول ۖ دیکھایا جاتا ہے تا کہ مطمن کیا جا سکے۔ حکومت پاکستان کا کام بنتا ہے کہ اپنے شہریوں کو دھوکہ فراڈ سے بچایا جائے اور ” عمرہ کروانے والے ” ایجنٹوں اور کمیشن مافیا کو پابند کیا جائے تاکہ عمرہ کا ویزہ لگواتے وقت جو ہوٹل دیکھایاجائے اسی میں رہائش مہیا کی جائے۔ ہوٹل کے جس اسٹار کی بکنگ ہوئی ہو اسی معیار پر سمجھوتا نہ کیا جائے۔

ضرورت اس امر کی ے کہ جو اللہ پاک اور آقا دوجہاں ۖ کے گھر کی زیارت کے لئے جانا چاہتے ہیں ان کو گاہک سمجھ کر نہیں بلکہ” خدا کا مہمان ”سمجھ کر اچھا برتاؤ کیا جائے تمام اشیاء کی حقیقت سے روشناس کروایا جائے تاکہ ” اللہ کے مہمانوں کی دل اوزاری نہ ہو۔

حکومت پاکستان کو بھی اس سنگین اور احساس معاملے پر کڑی نظر رکھنی چاہیے تاکہ ناجائز منافع خور حاجیوں اور عمرہ کرنے والوں کی جیبوں پر ڈاکہ نہ ڈال سکے اور زیادہ سے زیادہ اہل ایمان اللہ اور رسول اللہ ۖ کے گھر کے مہمان بن سکیں۔

Dr Tasawar Hussain Mirza

Dr Tasawar Hussain Mirza

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا